90سے زائد زخمی،املاک کو نقصان ،بڑے پیمانے پر بجلی بھی معطل ہوگئی ،زیادہ جانی نقصان پنجاب میں ہوا
اسلام آباد(آئی این پی )ملک کے مختلف حصوں میں شدید آندھی اور طوفانی بارشوں کے باعث اموات کی تعداد 19تک جاپہنچی جبکہ 90سے زائد زخمی ہو گئے، دوسری جانب املاک کو نقصان پہنچنے کے علاوہ بڑے پیمانے پر بجلی بھی معطل ہوگئی۔ رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں بھی تیز ہوا، ژالہ باری اور شدید بارش کے باعث متعدد نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہو گیا جبکہ مختلف مقامات پر درخت گرنے کی اطلاعات ملیں۔خیبر پختونخوا میں شدید ہواں اور ژالہ باری نے فصلوں اور بجلی کی ترسیلی لائنوں کو شدید نقصان پہنچایا تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، صوبے بھر میں 113سے زائد بجلی کے فیڈرز ٹرپ کر گئے، جبکہ پشاور، مردان، خیبر، صوابی، سوات اور ایبٹ آباد کے علاقے سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔زیادہ جانی نقصان پنجاب میں ہوا، پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور ریسکیو 1122 کے اعداد و شمار کے مطابق لاہور اور جہلم میں 3،3، سیالکوٹ اور مظفرگڑھ میں 2،2 جبکہ شیخوپورہ، ننکانہ صاحب، اٹک، ملتان، راجن پور، حافظ آباد، میانوالی، جھنگ اور لیہ میں ایک ایک ہلاکت رپورٹ ہوئی، زیادہ تر اموات دیواریں یا چھتیں گرنے کے باعث ہوئیں۔ریسکیو حکام کے مطابق شیخوپورہ میں ایک فیکٹری کی چھت گرنے سے ایک مزدور جاں بحق اور 5زخمی ہوئے، راولپنڈی کے علاقے فوجی کالونی میں ایک بزرگ شخص دیوار گرنے سے جاں بحق ہوا، اٹک کے علاقے جند میں ایک بچہ دیوار گرنے سے جان کی بازی ہار گیا۔ملتان الیکٹرک پاور کمپنی کے مطابق جنوبی پنجاب میں بجلی کے گرِڈ متاثر ہونے سے متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل رہی۔لاہور میں واسا نے نشیبی علاقوں سے پانی نکالنے کے لیے مشینری مکمل طور پر متحرک کر دی۔خیبر پختونخوا میں جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم فصلوں، درختوں اور بجلی کے نظام کو شدید نقصان پہنچا، پیسکو کے مطابق 113 سے زائد فیڈرز ٹرپ کر گئے، جبکہ کئی علاقوں میں گھنٹوں بجلی معطل رہی۔سوات، مردان، پشاور، خیبر، ایبٹ آباد اور مانسہرہ میں آندھی اور ژالہ باری کے باعث نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے اور مینگورہ میں طلبہ کو امتحانات اندھیرے میں دینا پڑے۔