لاہور(نیٹ نیوز )پولینڈ میں ایک نوجوان نے 9 سال ناکام کوششوں کے بعد تھیوری ڈرائیونگ ٹیسٹ پاس کر لیا۔ پولینڈ کے شہر تارنو کے اس نوجوان کو ڈرائیونگ لائسنس کے لیے لازمی تھیوری ٹیسٹ پاس کرنے میں 139 کوششیں کرنا پڑیں۔پولینڈ میں دیگر یورپی ممالک کی طرح ڈرائیونگ سیکھنے والوں کو عملی امتحان دینے سے پہلے کمپیوٹر پر مبنی تھیوری ٹیسٹ پاس کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اگر کوئی امیدوار تھیوری ٹیسٹ پاس نہ کرے تو وہ عملی امتحان دینے کا اہل نہیں ہوتا۔ عام طور پر لوگ 1 سے 3 کوششوں میں یہ ٹیسٹ پاس کر لیتے ہیں، لیکن کچھ غیر معمولی معاملات میں یہ عمل برسوں اور درجنوں کوششوں تک بھی جا سکتا ہے۔گزشتہ ہفتے پولیس کے مالوپولسکا روڈ ٹریفک سینٹر نے اعلان کیا کہ ایک مقامی شخص نے 139ویں کوشش میں تھیوری ڈرائیونگ ٹیسٹ پاس کر لیا۔ وہ 2017 سے یہ امتحان دے رہا تھا اور امتحانی فیس کی مد میں تقریباً 1800 یورو (2100 ڈالر) خرچ کر چکا تھا۔ٹیسٹنگ سینٹر کے ڈائریکٹر کے مطابق اس شخص نے ہمت نہیں ہاری اور امتحان دیتا رہا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈرائیونگ لائسنس اس کے لیے بہت اہم ہے اور اب وہ عملی امتحان کا انتظار کر رہا ہے۔