سعد کو تین گولیاں لگیں، حالت تشویشناک ،شوٹر ندیم گرفتار، ڈی آئی جی فیصل کا نوٹس
لاہور(کرائم رپورٹر) سیشن کورٹ کے باہر فائرنگ کے واقعے نے سیکیورٹی انتظامات پر سوالات کھڑے کر دیے ڈی آئی جی آپریشنز نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے مکمل تحقیقات کا حکم دے دیا ہے تفصیلات کے مطابق ایس ایس پی آپریشنز توقیر نعیم، ایس پی سکیورٹی ڈاکٹر عمر اور ایس پی سٹی موقع پر پہنچ گئے اور صورتحال کا جائزہ لیا۔ ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ ملزم ندیم ولد عبدالعزیز نے عدالت کے باہر فائرنگ کی۔فائرنگ کے نتیجے میں سعد ولد اظہر کو تین گولیاں لگیں جس کے باعث اس کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، جبکہ اسے فوری طور پر میو ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ واقعے کے دوران ایک راہگیر عثمان بھی گولی لگنے سے زخمی ہوا۔پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم ندیم کو موقع سے گرفتار کر لیا، جس سے مزید جانی نقصان ہونے سے بچ گیا۔پولیس کے مطابق ابتدائی طور پر واقعہ ذاتی دشمنی کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔ زخمی سعد ایک قتل کے مقدمے میں ضمانت پر عدالت پیشی کے لیے آیا تھا۔ ملزم ندیم پر شبہ ہے کہ اس نے مدعی مقدمہ کے کہنے پر حملہ کیا، تاہم مزید تحقیقات جاری ہیں۔ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے واقعے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لینے، سیکیورٹی میں ممکنہ خامیوں کی نشاندہی کرنے اور ذمہ داروں کا تعین کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے عدالتی احاطہ کی سیکیورٹی مزید سخت کرنے، داخلی و خارجی راستوں پر چیکنگ کا نظام مؤثر بنانے اور سیکیورٹی پروٹوکول پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کا حکم بھی دیا ہے۔ترجمان پولیس کے مطابق سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے ملزم کی نقل و حرکت کا ریکارڈ حاصل کیا جا رہا ہے جبکہ یہ بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ اسلحہ عدالت تک کیسے پہنچا۔ڈی آئی جی آپریشنز نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور عدالتوں سمیت تمام حساس مقامات کی سیکیورٹی کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے گا تاکہ شہریوں کے تحفظ اور امن و امان کو یقینی بنایا جا سکے۔