مراکش کے سرخ دروازے پر نئی دستک - فاطمہ زہرا سے بے نظیر تک

     ایم زیڈ کنول
تاریخ دروازہ کھٹکھٹاتی ہے، مگر اس کی گونج دیر تک سنائی دیتی ہے۔ رباط کے شاہی محل میں 29 ستمبر کو جب شاہ محمد ششم نے فاطمہ زہرا المنصوری کو حکومت کا سربراہ مقرر کیا تو یہ گونج مرّاکش کی سرحد سے نکل کر لاڑکانہ تک پہنچی۔
مراکش کی 63 سالہ پارلیمانی تاریخ میں پہلی بار کسی خاتون کو یہ منصب ملا ہے۔ یہ ملک کی پہلی خاتون وزیر اعظم ہیں۔
پہلی اینٹ کہاں رکھی گئی تھی؟
اس خبر کو مکمل سمجھنے کے لیے ہمیں صحرا سے نہیں، سندھ کے میدانوں سے شروع کرنا ہوگا۔اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیر اعظم کا اعزاز پاکستان کی بے نظیر بھٹو کو حاصل ہے۔ وہ 1988 میں جمہوری طور پر منتخب ہونے والی مسلم اکثریتی ملک کی پہلی خاتون وزیر اعظم بنیں۔ 1988 میں ہی وہ پاکستان اور عالم اسلام کی پہلی   خاتون وزیر اعظم منتخب ہوئیں۔ یکم دسمبر 1988 کو انہوں نے حلف لے کر یہ تاریخ رقم کی کہ وہ کسی بھی مسلم ملک کی پہلی خاتون سربراہ حکومت ہیں، اور اسی لیے تاریخ انہیں "اسلامی دنیا میں پہلی بلکہ کم عمر ترین خاتون وزیر اعظم" کے طور پر یاد کرتی ہے۔  بے نظیر نے یہ ثابت کیا تھا کہ اقتدار مردانہ جبہ نہیں، ایک امانت ہے جو عورت بھی اٹھا سکتی ہے۔ ان کے بعد یہ راستہ خالدہ ضیا، تنسو چلر اور پھر عرب دنیا میں تیونس کی نجلاء￿  بودن تک گیا۔
اب اسی سلسلے کی دوسری عرب اینٹ مراکش میں رکھی گئی ہے۔
50 سالہ وکیل فاطمہ زہرا ، جو مرّاکش کی میئر اور سابق وزیرِ منصوبہ بندی رہ چکی ہیں۔ ان کی جماعت اصالت و معاصرت پارٹی نے 23 ستمبر کے انتخابات میں 97 نشستیں جیتیں، اور آئین کے مطابق بادشاہ نے سب سے بڑی جماعت سے ہی انہیں حکومت بنانے کا مینڈیٹ دیا۔فرق یہ ہے کہ محترمہ بے نظیر کا راستہ گڑھی خدا بخش کے قبرستان سے ہوتا ہوا وزیر اعظم ہاؤس تک گیا تھا، فاطمہ زہرا کا راستہ جامع الفنا چوک کی سرخ دیواروں سے رباط تک۔ لیکن دونوں راستوں میں ایک چیز مشترک ہے - شک۔جب محترمہ  بے نظیر آئیں تو کہا گیا "عورت ریاست کیسے چلائے گی؟" جب فاطمہ آئی ہیں تو کہا جا رہا ہے "کیا وہ ورلڈ کپ 2030 اور معیشت کا بوجھ اٹھا پائیں گی؟" سوال وہی ہے، صرف لہجہ بدل گیا ہے۔تاریخ خود کو دہراتی نہیں، وہ صرف قافیہ ملاتی ہے۔ لاڑکانہ میں 1988 میں جو مصرعہ لکھا گیا تھا، اس کا دوسرا مصرعہ 2026 میں مرّاکش میں لکھا گیا ہے۔فاطمہ زہرا کا امتحان اب نعرہ نہیں، کارکردگی ہے۔ چراغ بے نظیر نے جلایا تھا، اس کی لو اب مراکش تک پہنچی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ یہ لو صحرا میں نخلستان بنتی ہے یا ہوا میں بجھ جاتی ہے۔