جنوبی کوریا میں تاریخ کی بدترین جنگلاتی آگ، 18 افراد ہلاک، 27,000 سے زائد بے گھر

جنوبی کوریا میں تاریخ کی بدترین جنگلاتی آگ، 18 افراد ہلاک، 27,000 سے زائد بے گھر

جنوبی کوریا کو تاریخ کی بدترین جنگلاتی آگ کا سامنا ہے، جو جمعہ کے روز شروع ہوئی اور تیزی سے پھیل گئی، جس کے نتیجے میں اب تک 18 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور 27,000 سے زائد افراد نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔

اس آگ نے 43,000 ایکڑ سے زیادہ جنگلاتی اراضی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، اور تیز ہوائیں اور خشک موسم اس کی شدت میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔آگ نے 1,300 سالہ قدیم گونسا مندر کو تباہ کر دیا، تاہم اس کے کچھ تاریخی نوادرات جیسے پتھریلا بدھا مجسمہ بچا لیے گئے ہیں۔ جنوبی کوریا کی حکومت نے آگ پر قابو پانے کے لیے 9,000 سے زائد فائر فائٹرز، 5,000 فوجیوں اور 130 ہیلی کاپٹروں کو تعینات کیا ہے۔ ساتھ ہی، قومی سطح پر آگ کے خطرے کی سب سے اونچی سطح کی وارننگ جاری کر دی گئی ہے۔

منگل کے روز ایک فائر فائٹنگ ہیلی کاپٹر بھی حادثے کا شکار ہو گیا، جس کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیاں جنگلاتی آگ کو مزید شدت دے رہی ہیں۔ اس سال اب تک 240 سے زائد جنگلاتی آگ کے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 2.4 گنا زیادہ ہیں۔ حکام کا شبہ ہے کہ یہ آگ انسانی سرگرمیوں، جیسے ویلڈنگ کے چنگاریوں یا قبروں کے قریب گھاس جلانے کی وجہ سے شروع ہوئی۔