26 دسمبر 2004 کو دنیا کی تاریخ کے بدترین سونامی نے انسانوں کی زندگیوں اور جائیدادوں کو شدید نقصان پہنچایا، اور آج اس واقعہ کو 20 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
اس سونامی کی شدت 9.1 تھی، جس سے دنیا کے مختلف ممالک میں 220,000 سے زائد افراد کی جانیں گئیں۔ اس قدرتی آفت کا مرکز انڈونیشیا کے سماٹرا جزائر کے قریب تھا، جہاں 100 فٹ بلند لہریں آئی تھیں، جو ایک زبردست زلزلے کی وجہ سے پیدا ہوئیں۔ اس زلزلے نے اتنی طاقت خارج کی تھی کہ اس کا موازنہ ہیروشیما پر گرائے گئے ایٹم بم سے کیا گیا۔سونامی نے انڈونیشیا، بھارت، سری لنکا، تھائی لینڈ اور دیگر 9 ممالک کو اپنی لپیٹ میں لیا۔ انڈونیشیا سب سے زیادہ متاثر ہوا جہاں 120,000 افراد ہلاک ہوئے اور لاکھوں افراد بے گھر ہوگئے۔ سری لنکا میں 35,000، بھارت میں 16,400 اور تھائی لینڈ میں 8,345 افراد کی جانیں گئیں۔ اس تباہی نے 1.5 ملین افراد کو بے گھر کر دیا اور اربوں ڈالرز کا نقصان پہنچایا۔
اقوامِ متحدہ نے اس آفت کے بعد 14 بلین ڈالرز کی امداد فراہم کی۔ اس سانحے کے بعد عالمی سطح پر سونامی کی پیشگی اطلاع دینے کے لیے خصوصی مراکز قائم کیے گئے، تاکہ مستقبل میں ایسے قدرتی آفات سے بچا جا سکے اور ان کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق اس وقت تک اس قسم کا کوئی پیشگی اطلاع دینے کا نظام موجود نہیں تھا، جس کی وجہ سے تباہی کا اثر اتنا زیادہ ہوا۔اس سونامی سے دنیا نے سیکھا کہ قدرتی آفات کے دوران فوری اطلاع اور تیاری ضروری ہیں، اور اس کے بعد دنیا نے سونامی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر اقدامات شروع کیے۔