جاپان کے شمالی شہر اوفوناٹو کے قریب نصف صدی کی بدترین جنگل کی آگ بے قابو ہو گئی، جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک ہوگیا جبکہ 4,000 سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔
آگ کی شدت اور تباہی
ریسکیو حکام کے مطابق آگ نے اب تک 80 عمارتوں کو متاثر کیا ہے، جبکہ 2,600 ہیکٹر سے زائد رقبہ جل چکا ہے، جو نیویارک کے سینٹرل پارک کے رقبے سے سات گنا زیادہ ہے۔ ماہرین کے مطابق خشک موسم اور گزشتہ سال ریکارڈ گرمی کے باعث آگ کی شدت میں اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے اس پر قابو پانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
ریسکیو آپریشن
آگ بجھانے کے لیے 2,000 سے زائد فائر فائٹرز اور ہیلی کاپٹرز امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ حکام نے علاقے میں ہنگامی حالت نافذ کرتے ہوئے عوام کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت دی ہے۔
وجوہات اور ممکنہ اثرات
ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں جاپان میں درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کی وجہ سے جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اگر آگ پر جلد قابو نہ پایا گیا تو یہ مزید علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے، جس سے جانی و مالی نقصان بڑھنے کا خدشہ ہے۔جاپانی حکومت نے عوام کو الرٹ رہنے اور ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر حکام کی ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کی ہے۔