میکسیکو میں گھر پر اندھا دھند فائرنگ، بچوں سمیت 10 افراد ہلاک

میکسیکو میں گھر پر اندھا دھند فائرنگ، بچوں سمیت 10 افراد ہلاک

میکسیکو میں دہشت اور بربریت کا ایک اور افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک تقریب کے دوران مسلح افراد نے ایک گھر میں گھس کر اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں بچوں سمیت 10 افراد جاں بحق ہو گئے۔

واقعے کی تفصیلات:
واقعہ ایک نجی تقریب کے دوران پیش آیا جب نامعلوم حملہ آور اچانک گھر میں داخل ہوئے اور اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔مقتولین میں خواتین، مرد اور کم عمر بچے شامل ہیں۔ تاہم ابھی تک مقتولین کی شناخت اور ان کے باہمی تعلقات کے حوالے سے معلومات سامنے نہیں آ سکی ہیں۔حملہ آور واردات کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ پولیس نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
صدر کلاڈیا شینباؤم کا ردعمل:
میکسیکو کی صدر کلاڈیا شینباؤم نے واقعے کو "انتہائی افسوسناک" قرار دیتے ہوئے کہا کہ:“یہ صرف ایک مجرمانہ کارروائی نہیں بلکہ انسانی ہمدردی کے اصولوں کے منافی ظلم ہے۔ ہم لواحقین کے ساتھ کھڑے ہیں۔”انہوں نے مزید کہا کہ واقعے کی نوعیت کی مکمل چھان بین کی جائے گی اور ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

تفتیشی پیشرفت:
پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکھٹے کر کے لاشوں کو قریبی اسپتال منتقل کر دیا ہے۔حملے کی وجوہات اور ممکنہ محرکات کے بارے میں اب تک کوئی حتمی بیان سامنے نہیں آیا۔مقامی حکام کے مطابق، واقعے کے پس منظر میں منظم جرائم پیشہ گروہوں یا ذاتی دشمنی کا امکان بھی زیر غور ہے۔
میکسیکو میں پُرتشدد وارداتوں کا تسلسل:
میکسیکو میں گزشتہ چند برسوں سے منشیات کے کارٹلز، مسلح گروہوں اور مجرمانہ سرگرمیوں میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔اس واقعے نے ایک بار پھر عوامی تحفظ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

عالمی اور انسانی حقوق کے اداروں کا مطالبہ:
انسانی حقوق کے عالمی اداروں نے میکسیکو حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عام شہریوں کی حفاظت کو ترجیح دی جائے اور ایسے جرائم کی غیرجانبدار اور شفاف تحقیقات کر کے مجرموں کو فوری گرفتار کیا جائے۔