قانون و انصاف کمیشن آف پاکستان کے تحت نئی سکیم کا آغاز

 سکیم کے تحت مالی طور پر کمزور سائلین کو ریاستی خرچ پر وکلاء کی معاونت فراہم کی جائے گی
 سپریم کورٹ برانچ رجسٹری لاہور میں  فزیبلیٹی کی بنیاد پر فسیلیٹیشن سینٹر قائم کیا جائے گا
یہ سینٹر وکلاء اور سائلین کے لئے ایک ون ونڈو سروس فراہم کرے گا:چیف جسٹس یحییٰ آفریدی
    لاہور(یواین پی) معزز چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے معزز جسٹس شکیل احمد اور معزز جسٹس اشتیاق ابراہیم کے ہمراہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن لاہور کا دورہ کیا۔ ان کی آمد پر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکریٹری سلمان منصور اور دیگر معزز وکلاء نے پرتپاک استقبال کیا۔معزز چیف جسٹس نے بار کا شکریہ ادا کیا اور نظامِ انصاف کی موثر عملداری میں وکلاء برادری کے کلیدی کردار کو سراہا۔اس موقع پر ان کے معزز منصب سے سپریم کورٹ برانچ رجسٹری لاہور میں ایک فزیبلیٹی کی بنیاد پر فسیلیٹیشن سینٹر کے قیام کا اعلان کیا گیا۔ یہ سینٹر وکلاء اور سائلین کے لیے ایک ون ونڈو سروس فراہم کرے گا، جو شہری مرکوز، ڈیجیٹل طور پر مربوط اور کم لاگت عدالتی نظام کے لیے سپریم کورٹ کے عزم کا مظہر ہوگا۔معزز چیف جسٹس نے وکلاء برادری پر زور دیا کہ وہ مقدمات کی ڈیجیٹل فائلنگ کو اپنائیں تاکہ عدالتی کارروائیوں میں رفتار اور موثریت لائی جا سکے۔انہوں نے قانون کی حکمرانی کے قیام میں بار کے لازمی کردار کو اجاگر کیا اور اس پیشہ ورانہ شعبے کے لیے بنچ کی گہری عزت اور احترام کا اعادہ کیا۔ایک اہم پیش رفت کے طور پر معزز چیف جسٹس نے اعلان کیا کہ قانون و انصاف کمیشن آف پاکستان کے تحت ایک نئی اسکیم کا آغاز کیا گیا ہے جس کے تحت مالی طور پر کمزور سائلین کو ریاستی خرچ پر وکلاء کی معاونت فراہم کی جائے گی، خواہ ان کا مقدمہ مجسٹریٹ عدالت میں ہو یا سپریم کورٹ میں۔اس اقدام کا مقصد ہر شہری کے لیے مساوی عدالتی رسائی کو یقینی بنانا ہے۔سیکریٹری سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن سلمان منصور نے معزز چیف جسٹس کے دورے پر شکریہ ادا کیا اور بار کے مسائل کے حل کے لیے ان کی قیادت کو سراہا۔ انہوں نے فسیلیٹیشن سینٹر کے قیام کو خوش آئند قرار دیا اور عدالتی اصلاحات میں بار کے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔