اسحاق ڈار کا عمران خان کی سزا پر ردعمل: عافیہ صدیقی کیس کی مثال دے دی

اسحاق ڈار کا عمران خان کی سزا پر ردعمل: عافیہ صدیقی کیس کی مثال دے دی

ویب ڈیسک: نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے متعلق سوال پر واضح کیا ہے کہ پاکستان میں قانونی عمل منصفانہ طریقے سے جاری ہے، اس کیس کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے۔

امریکا کے تھنک ٹینک "اٹلانٹک کونسل" میں خطاب کے دوران جب اسحاق ڈار سے عمران خان کی عدالتی سزاؤں پر سوال کیا گیا تو انہوں نے عافیہ صدیقی کیس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جیسے وہ امریکا میں کئی عشروں سے قید ہیں، ویسے ہی پاکستان میں بھی قانونی عمل کا احترام کیا جانا چاہیے۔ ان کے بقول: "نہ جانے عافیہ صدیقی کب تک قید رہیں گی، مگر ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ان کے ساتھ انصاف نہیں ہوا۔"اسحاق ڈار نے کہا کہ اگر کوئی ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھاتا ہے، جیسا کہ 9 مئی کے واقعات میں ہوا، تو قانون اپنا راستہ خود بناتا ہے، چاہے وہ شخص کتنا ہی پاپولر کیوں نہ ہو۔انہوں نے انکشاف کیا کہ عمران خان ماضی میں سیاست میں آنے سے پہلے ان کے پاس چندے کے لیے آتے تھے۔ اسحاق ڈار نے 2014 کے دھرنے کو ملکی معیشت کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اُس تحریک سے معاشی ترقی کو دھچکا پہنچا۔

نائب وزیر اعظم نے مزید کہا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف نے دہشت گردی کے خلاف اہم کامیابیاں حاصل کیں، لیکن بعد میں آنے والی حکومت نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے لیے سرحدیں کھولیں، سو سے زائد مجرم رہا کیے گئے اور ہزاروں طالبان دوبارہ پاکستان میں داخل ہو گئے۔ان کا کہنا تھا کہ ریاستی اداروں پر حملہ ناقابل برداشت ہے، اور قانون کی بالادستی کے لیے کسی کو استثنا حاصل نہیں ہونا چاہیے۔
 

 
Ask ChatGPT