ساڑھے 10لاکھ موٹرسائیکلیں،ایک لاکھ 39ہزار نئی گاڑیاں رجسٹرڈ ہوئیں
رواں سال رجسٹریشن مد میں 35 ارب روپے وصولی کا تخمینہ ہے، ایکسائز حکام
لاہور (خصوصی رپورٹ)معاشی مشکلات اور مہنگائی کے باوجود پنجاب میں گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی خریداری میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ مالی سال 2024-25 میں گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی رجسٹریشن میں غیرمعمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ مالی سال میں گاڑیوں کی رجسٹریشن میں 30 فیصد اور موٹر سائیکلوں کی رجسٹریشن میں 20 فیصد اضافہ ہوا۔2024-25 میں ساڑھے دس لاکھ موٹر سائیکلیں رجسٹرڈ ہوئیں، جو کہ مالی سال 2023-24 کی ساڑھے آٹھ لاکھ موٹر سائیکلوں کے مقابلے میں دو لاکھ زیادہ ہیں۔اسی طرح 1 لاکھ 39 ہزار نئی گاڑیاں رجسٹرڈ کی گئیں، جبکہ گزشتہ مالی سال میں یہ تعداد صرف 92 ہزار رہی تھی۔رپورٹ کے مطابق کمرشل گاڑیوں کی رجسٹریشن میں بھی نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی،گزشتہ مالی سال میں 47,700 کمرشل گاڑیاں رجسٹرڈ ہوئیں،جبکہ 2023-24 میں یہ تعداد 39,500 تھی۔رجسٹریشن میں اضافے کے باعث ایکسائز ڈیپارٹمنٹ نے حکومت کے خزانے میں بھی نمایاں رقم جمع کرائی۔2024-25 میں ساڑھے 29 ارب روپے کی وصولی کی گئی،جو کہ گزشتہ مالی سال کی ساڑھے 19 ارب روپے کی وصولی کے مقابلے میں 10 ارب روپے زیادہ ہے۔ایکسائز حکام کے مطابق رواں مالی سال میں گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی رجسٹریشن میں مزید اضافے کی توقع ہے،اور 32 سے 35 ارب روپے کی وصولی کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مہنگائی، ٹریفک مسائل اور ایندھن کی قیمتوں کے باوجود شہریوں کا گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی طرف بڑھتا رجحان نہ صرف معاشی رویوں میں تبدیلی کی علامت ہے بلکہ حکومتی ٹیکس وصولیوں کے لیے بھی ایک مثبت اشاریہ ہے۔