پاکستانی نوجوان کیوں ہجرت پر مجبور ہیں؟

 فرزانہ اقبال
ملک میں بے روزگاری، معاشی عدم استحکام اور مہنگائی کے نہ تھمنے والے طوفان نے عوام کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے کہ وطن سے محبت کے  سارے جذبے اب معاشی مجبوریوں کے سامنے بے بس دکھائی دینے لگے ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق 2025  کے ابتدائی چھ ماہ میں تقریباً ساڑھے تین لاکھ پاکستانیوں کا ملک چھوڑ دینا اس حقیقت کی ایک سنگین علامت ہے کہ جب نظام روزگار نہ دے، ریاست تحفظ نہ دے ا ور مستقبل دھندلا ہو جائے تو ہجرت واحد سہارا محسوس ہونے لگتی ہے۔ ایک ایسا ملک جہاں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ہر سال یونیورسٹیوں اور کالجوں سے تعلیم مکمل کرتی ہے، وہاں ان کی توانائیوں اور صلاحیتوں کا کوئی مصرف نہ ہونا صرف انفرادی نقصان نہیں بلکہ قومی سرمائے کی بربادی ہے۔ماضی میں بھی ہجرت کی روایت رہی ہے لیکن آج کی صورت حال ماضی سے کہیں زیادہ بھیانک ہے۔ جب کوئی تعلیم یافتہ نوجوان، ایک ہنر مند مزدور یا ایک باصلاحیت پیشہ ور شخص اپنا گھر بار، خاندان، ثقافت اور زبان چھوڑ کر دیارِ غیر کی طرف رْخ کرتا ہے تو یہ صرف ایک فرد کا سفر نہیں ہوتا بلکہ اس میں پورے معاشرے کے اجتماعی زخموں کی داستان ہوتی ہے۔ ملک میں جاری بے روزگاری کی شرح ایک طرف، دوسری طرف مہنگائی کی بلند ترین سطح اور روپے کی گرتی ہوئی قدر نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر بڑھتی اشیائے خورونوش کی قیمتیں، یوٹیلیٹی بلز میں بے قابو اضافہ، پٹرول، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے نے متوسط اور نچلے طبقے کے لیے زندگی گزارنا دشوار بنا دیا ہے۔معاشی ماہرین کے مطابق ہر سال لاکھوں پاکستانی بیرون ملک روزگار کی تلاش میں نکلتے ہیں لیکن حالیہ مہینوں میں جس تیزی سے یہ تعداد بڑھی ہے وہ ظاہر کرتی ہے کہ ملک میں روزگار کے مواقع سکڑ رہے ہیں اور حکومتی پالیسیوں میں کوئی واضح سمت نظر نہیں آتی۔ کورونا وبا کے بعد عالمی سطح پر معاشی سست روی کے باوجود کئی ممالک میں افرادی قوت کی ضرورت برقرار ہے جس کا فائدہ پاکستانی نوجوان اٹھا رہے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہماری ریاست ان ہجرتوں کو اپنے نظام کی ناکامی نہیں سمجھتی؟ کیا یہ حقیقت کافی نہیں کہ ایک محب وطن پاکستانی بھی معاشی تحفظ کے لیے اپنی شناخت چھوڑنے پر مجبور ہو جائے؟اس صورت حال کا ایک افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ ملک سے باہر جانے والے اکثر افراد کو غیر انسانی حالات اور استحصال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خلیجی ممالک میں مزدوروں کے ساتھ ناروا سلوک، ویزا ایجنٹوں کی لوٹ مار، جعلی نوکریوں کے جھانسے اور قانونی پیچیدگیاں ان کے لیے ایک اور آزمائش بن جاتی ہیں۔ اس کے باوجود وہ یہ سب کچھ برداشت کرتے ہیں کیونکہ وطن میں بھوک، بے روزگاری اور بے یقینی اس سے زیادہ اذیت ناک بن چکی ہے۔نوجوانوں کے ہجرت کرنے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ یہاں انہیں اپنے مستقبل کے لیے کوئی واضح راستہ نظر نہیں آتا۔ میرٹ کی پامالی، سفارش اور کرپشن کے سائے نے نظام کو اس قدر کھوکھلا کر دیا ہے کہ محنتی اور قابل افراد بھی مایوسی کا شکار ہو کر ملک چھوڑنے کو ترجیح دینے لگے ہیں۔ سرکاری ملازمتیں چند خاندانوں اور طبقوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہیںجبکہ نجی شعبہ مالی بحران کے باعث نئے لوگوں کو 
بھرتی کرنے کے بجائے پہلے سے موجود ملازمین کی تنخواہیں بھی وقت پر نہیں دے رہا۔ تعلیمی اداروں سے نکلنے والے لاکھوں نوجوانوں کو معلوم ہی نہیں کہ ان کے لیے آگے کیا امکانات موجود ہیں۔ایک اور اہم مسئلہ کم تنخواہیں اور ملازمتوں میں عدم تحفظ ہے۔ آج بھی پاکستان میں بڑی تعداد میں ایسے افراد کام کر رہے ہیں جنہیں نہ صرف کم از کم اجرت بھی پوری نہیں دی جاتی بلکہ ان کی نوکری کا کوئی تحریری معاہدہ بھی نہیں ہوتا۔ فری لانسنگ، کنٹریکٹ بیسڈ نوکریاں اور عارضی تقرریاں روزگار کی صورت میں تو نظر آتی ہیں لیکن ان میں استحکام، تحفظ اور مستقبل کی ضمانت موجود نہیں ہوتی۔ جب کہ دوسری طرف سرکاری ملازمین بھی مہنگائی کے اس دور میں اپنی تنخواہوں سے گھریلو اخراجات پورے نہیں کر پا رہے۔ جس کی وجہ سے لوگوں کا اعتماد نظام پر سے اٹھتا جا رہا ہے۔رواں سال کے ابتدائی چھ ماہ میں ساڑھے تین لاکھ پاکستانیوں کا ملک چھوڑنا صرف ایک اعداد و شمار کی خبر نہیں بلکہ ایک المیہ ہے۔ یہ وہ چیخ ہے جو ہمارے نظام کی ناکامی، ہماری پالیسیوں کی بے سمتی اور ہمارے حکمرانوں کی بے حسی کو سامنے لا رہی ہے۔ اگر یہ روش اسی طرح جاری رہی تو آنے والے برسوں میں نہ صرف افرادی قوت کی قلت کا سامنا کرنا پڑے گا بلکہ سماجی و معاشی توازن بھی بگڑ جائے گا۔ معاشرتی بے چینی، جرائم میں اضافہ، ذہنی دبائو اور خاندانی نظام کی کمزوری جیسی کئی سنگین صورتیں جنم لے سکتی ہیں۔حکومت کی جانب سے وقتاً فوقتاً اعلانات کیے جاتے ہیں کہ ملک میں روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں گے، نوجوانوں کے لیے قرض اسکیمیں ہوں گی، ہنر مند پروگرام شروع کیے جائیں گے لیکن ان تمام دعووں کی زمینی حقیقت صفر نظر آتی ہے۔ زیادہ تر منصوبے یا تو محض اشتہاروں تک محدود رہتے ہیں یا پھر ان میں کرپشن کی نذر ہو جاتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت ملک میں پائیدار معاشی پالیسی مرتب کرے، صنعت و تجارت کو فروغ دے اور خاص طور پر نوجوانوں کے لیے ہنر کی بنیاد پر روزگار کے مواقع پیدا کرے تاکہ انہیں ہجرت جیسے کٹھن فیصلے نہ کرنے پڑیں۔یہاں یہ بھی ضروری ہے کہ ہم انفرادی اور اجتماعی سطح پر اس مسئلے کو سنجیدگی سے سمجھیں۔ میڈیا کو چاہیے کہ وہ روزگار کے ان مسائل پر روشنی ڈالے جو ہجرت کی بنیادی وجوہات ہیں۔ صرف کامیاب بیرون ملک پاکستانیوں کی کہانیاں دکھانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ ہمیں ان تلخ حقیقتوں پر بھی توجہ دینی ہوگی جو لاکھوں لوگوں کو وطن چھوڑنے پر مجبور کرتی ہیں۔ ریاست کو چاہیے کہ وہ ہجرت کو اپنی ناکامی تسلیم کرے اور اس کا حل تلاش کرے نہ کہ اسے محض ترسیلات زر کی ایک مثبت علامت بنا کر پیش کرے۔ہمارا نوجوان ہمارا اثاثہ ہے۔ اس کی امید، جوش، ولولہ اور قابلیت ملک کے لیے ایک روشن مستقبل کی ضمانت بن سکتی ہے اگر اسے صحیح رہنمائی، روزگار اور اعتماد دیا جائے۔ بصورتِ دیگر اگر یہی ہنر اور توانائی کسی اور ملک کی معیشت کو مضبوط کرے گی تو ہم صرف اپنے خالی ہوتے شہروں اور کم ہوتی افرادی قوت پر افسوس کرتے رہ جائیں گے۔ آج بھی وقت ہے کہ ہم اپنی سمت درست کریں اور ایک ایسا پاکستان بنائیں جہاں کسی کو صرف روٹی، عزت اور تحفظ کی تلاش میں اپنے وطن کو خیرباد نہ کہنا پڑے۔