خیالات کی دنیا سے نکل کر

طلعت بٹ
آج اور کل میں فرق صرف ناموں اور جگہ کا ہی نظر آتا ہے! افلاطون کے الفاظ میں کتنی طاقت اور گہرائی دیکھنے میں نظر آتی ہے ایک جملہ آپ کی نزر کرتا ہوں، چھوٹے سے فقرے میں کتنی بڑی کامیابی اور خاموشی چھپی بیٹھی ہے۔ انسان نے دوسری دنیا پر کمند ڈالنے کی کوشش میں تجربات کئے اور کسی حد تک کامیاب بھی رہا۔ در اصل مسئلہ انسان کی ترقی کا نہیں بلکہ حضرت انسان کی متلاشی فطرت کا تھا۔ آج ہم سب جانتے ہیں کہ فطرت کے کمالات کا اظہار اور علم سب حضرت آدم یعنی (انسان ) کی لگاتار محنت اور جستجو سے ہی کامیاب اور کامران ہیں۔ زندگی میں مختلف قسم کے عملیات اور تجربات کی بدولت ہی انسان آج کے اس ڈیجیٹل دور میں زندہ ہے۔ ہم نے اکثر سنا ہے کہ بڑے خواب دیکھنے والوں کے کام بھی بڑے ہوتے ہیں اب یہ کیسے ثابت ہوگا کہ وہ انسان جس نے بڑے خواب دیکھ کر بہت کچھ حاصل کر لیا اصل میں سویا ہوا خواب دیکھتا تھا یا وہ جاگتے ہوئے خواب دیکھا کرتا تھا۔ اس وقت اس پر بحث نہیں ہوگی وہ اس لئے کہ آج میں نے آپ سب پڑھنے والوں کے لئے ایک خوبصورت پیغام دینا ہے جو فلاسفی اور سوکس کی جدید ٹیکنالوجی کا کشید کردہ مرکب ہے slowly آپ میرے ساتھ چلتے جائیں آپ کو اپنی منزل حاصل کرنی ہے اور گزرے وقت کو پیچھے چھوڑتے ہوئے آگے کی طرف سفر کرتا ہے۔ میرا ساتھ آپکو جھکنے نہیں دے گا۔ آپ یہ سمجھیں کہ آپ جناب بھی میرے ساتھ ترقی اور خوشحالی دریافت کرنے نکلے ہیں اور راستہ مشکل ہے مگر جس طرح آپ جاگ کر کوئی غلطی کے بغیر میرے ہمسفر ہیں اسی طرح میرے خواب بھی آپ کی حفاظت اور اصلاح پسند نظریات کو عملی طور پر ایک وجود دیتا ہے۔ ہم پاکستان کے شہری ہیں ایک شہری کے اختیارات اور معاشرتی پروگراموں کا انحصار کن بنیادوں پر ہوتا ہے اور ایک شہری کے بنیادی حقوق کو انسانی ہمدردی کے حقوق میں کیا مقام حاصل ہے اور پھر اپنے ہی ماحول میں ایک فرد تلاش کرنا ہے جو اس بنیادی حقوق کا متلاشی ہے جس نے خود کو پہچان لیا ہے اور جو خود کو جیتنے کا فن جان چکا ہے۔ میں قدم قدم پر آپ کے ساتھ ہوں اور ہر طرح سے منحوس غلام طبعیت سے کو فتح کرنے کے اصول پیش کرتا رہوں گا۔ پاکستان قدرتی معدنیات اور کھیتی باڑی
کے حوالے سے ایک اعلی مقام رکھتا ہے۔ ہمارے ملک میں وسائل کی کوئی کمی نہیں ہے اپنی ضروریات کو ہم آسانی سے پورا کر سکتے ہیں۔ تعلیم و ہنر میں ہمیں بہت بڑا دھوکہ دیا گیا ہے اور ہمیں محکوم قوموں کے برابر کھڑا کر دیا گیا ہے اس مجرمانہ غفلت میں جو لوگ شامل ہیں ان پر بحث بعد میں ہو گی ابھی اپنی گمشدہ ساکھ کو دریافت کرنے کا وقت ہے اس عمل میں چند ضروری اقدامات اور کلیات ہیں جو ساری قوم پر اور ہر شہری پر اثر انداز ہوں گے جیسا کہ ہم نے اپنے ملک میں کوئی ایسا ادارہ نہیں دیکھا جس میں بغیر رشوت بغیر سفارش کسی شہری کو کوئی سہولت
میسر ہو۔کسی بھی ریاست میں شہری کو بنیادی سہولتوں سے محروم کرنا اتنا بڑا جرم ہے جس کی سزا ابھی پیش نہیں کروں گا اس پر بھی بعد میں بات ہو گی۔ اس وقت ہم اپنی منزل کی طرف سفر کر رہے ہیں اور ہمیں بنیادی مقصد کیلئے قدم آگے رکھنا ہے تبھی تو ہمیں آگے نکلنے کی تیاری کرنی ہے اس عمل کو کوئی نہیں روک سکتا۔ میرا آپ سے رشتہ بہت خاص ہے جس کو روحانی طور محسن کہتے ہیں آپ سے ہم کلام ہونا شروع کیا تو یوں 
محسوس ?وا کہ جیسے میرے پاس آپ کی امانت صدیوں سے محفوظ تھی جو آپ کو لوٹا رہا ہوں۔ مجھے فخر ہے کہ میں آپ کی طرح ایک پاکستانی ہوں اور اپنی قومی زبان میں آپ کی محفل میں حاضر ہوں۔ ایک عرصہ سے ملک سے باہر ہوں میری آنکھوں نے مختلف رنگ اور کلچر کے لوگ دیکھ کر چند
چیزیں نوٹ کی ہیں وہ یہ کہ انسان کسی بھی دیس یا خطے کا ہو سب سے پہلے مرحلے میں وہ اپنا کلچر عزیز رکھتا ہے دوسرا ہمیشہ اپنے قبیلہ رشتہ دار بہن بھائی اور ماں باپ پر توجہ رکھتا ہے۔ اس معاشرتی تعلق کو انسانی فطرت اور سوکس کے اصولوں کے مطابق گھر بار اور خاندان کا نام بھی دیا جاتا ہے۔ اب اس طبقہ میں خونی رشتوں کا ذکر بھی آتا ہے۔ اس سے بڑھ کر کوئی تعلق نہیں ہو سکتا انسان اپنا کردار زندگی کی اس کہانی میں داخل کرتا ہے اور اپنے مردہ جسم کو اپنی روح سے جدا کر لیتا ہے۔ یہ ترتیب کروڑوں سال سے جاری ہے اور آج بھی طرز زندگی وہی ہے جو آج سے قبل تھا مگر چندچیزیں جو وقت کی رفتار نے تبدیل کر کے لمحوں کے تقاضے نکھار ڈالے۔ خاندان قبیلے اور لوگ بڑھتے چلے گئے آبادیوں میں اضافے اور افراد کی نقل مکانی نے ایک نئی طرز زندگی کو جنم دیا۔ میرا تعلق بھی پاکستان کے معاشرے ہی سے ہے جس میں خاندان کے اصولوں پر چلنے کی روایات موجود ہیں۔ اس کے بعد زندگی کو اسی طریقے سے چلانے کا فیصلہ ہے جو مجھ سے پہلے قائم کیا جا چکا ہے۔ یہ ایسا نقطہ ہے جہاں پر کچھ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ جیسا کہ ہم لوگ اپنے ملک میں زندگی گزار رہے ہیں اور اپنے لوگوں میں خوش ہیں اسی طرح ہم کو انفرادی طور پر سوچنا ہوگا کہ جس ملک میں عدل و انصاف کا فقدان ہے جہاں قانون کو پامال کیا جاتا ہے کیا وہاں پر کوئی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ کیا وہاں عدل و انصاف کے لئے آواز اٹھانا چاہئے کیا اس ملک میں ستم ظریفی ہی راج کرے گی۔تھوڑا سا غور کرنے پر کچھ تو نظر آتا ہے۔ اب جو کچھ میں نے اب تک لکھا ہے اس کو دوبارہ پڑھ کر میرے ساتھ اگلے مرحلے میں سفر کریں۔ اس مرحلے میں آپ کو مختلف طریقوں سے اپنے ارد گرد کے ماحول کو دیکھنا پڑے گا اور کچھ چیزوں کو ترک کرنا ہوگا اور کچھ نئی چیزوں کو اپناناپڑے گا۔ اس عمل کو اپنے کل کو سنوارنے کا ارادہ سمجھ کر اپنے مستقبل کے لئے آج سے اور ابھی سے تیاری کرنی ہوگی۔