ندیم ملک
یہ مصرع محض ایک مصرع نہیں، یہ پاکستان کے کروڑوں عوام کے دل کی آواز ہے۔ ایک ایسی آواز جو اب آہ و فغاں سے نکل کر چیخ میں بدل چکی ہے۔ یہ چیخ کسی ایک شہر، کسی ایک طبقے یا کسی ایک مسئلے کی نہیں بلکہ پورے معاشرے کے اجتماعی کرب کا اظہار ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، بدانتظامی اور حکومتی بے حسی نے عوام کو اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں اب صبر کا دامن ہاتھ سے چھوٹتا محسوس ہو رہا ہے
آج کا عام آدمی جب صبح آنکھ کھولتا ہے تو سب سے پہلا خیال بچوں کے ناشتہ، بجلی کے بل اور گھر کے اخراجات کا ہوتا ہے۔ تنخواہ وہی ہے مگر قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ آٹا، چینی، دال، گھی اور سبزیاں غریب کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے روزمرہ کی اشیاء بھی کسی لگڑری آئٹم میں بدل گئی ہوں۔ جو کل تک دو وقت کی روٹی کا انتظام کر لیتا تھا، آج وہ ایک وقت کے لیے بھی پریشان ہے
مہنگائی کے ساتھ ساتھ بجلی اور گیس کے بل عوام کی کمر توڑ چکے ہیں۔ بجلی آتی کم ہے اور بل پورا آتا ہے۔ لوڈشیڈنگ نے گھریلو زندگی مفلوج کر دی ہے، کاروبار تباہ ہو رہے ہیں اور طلبہ تعلیم سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ گیس نہ ہونے کی وجہ سے گھروں میں چولہے ٹھنڈے پڑے ہیں اور مائیں بچوں کو بہلانے پر مجبور ہیں۔ ایسے میں جب عوام سوال اٹھاتے ہیں تو جواب میں انہیں صرف یہی سننے کو ملتا ہے کہ حالات مشکل ہیں، صبر کریں
لیکن سوال یہ ہے کہ صبر بھی تو ایک حد تک ہوتا ہے۔ جب ہر طرف مایوسی ہو، جب محنت کا پھل نہ ملے، جب انصاف صرف طاقتور کے لیے ہو اور کمزور کے لیے صرف تسلیاں ہوں، تو پھر چیخ ہی نکلتی ہے۔ کسان کھیت میں دن رات محنت کرتا ہے مگر فصل کی قیمت اسے نہیں ملتی۔ مزدور اینٹ پتھر اٹھاتا ہے مگر اس کی اجرت اتنی نہیں کہ وہ اپنے بچوں کو تعلیم دلوا سکے۔ نوجوان ڈگریاں ہاتھ میں لیے دربدر کی ٹھوکریں کھا رہا ہے مگر روزگار کہیں نظر نہیں آتا۔
ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرے۔ تعلیم، صحت، روزگار اور تحفظ ہر شہری کا حق ہے، کوئی احسان نہیں۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں یہ حقوق بھی سفارش، تعلق اور طاقت کے تابع ہو چکے ہیں۔ سرکاری دفاتر میں عام آدمی کی شنوائی نہیں، ہسپتالوں میں مریض تڑپ رہا ہے اور اسکولوں میں تعلیم کا معیار زوال پذیر ہے۔ ایسے میں عوام اگر چیخیں نہ نکالیں تو کیا کریں؟
حکمرانوں کے دعوے اپنی جگہ، مگر زمینی حقائق ان دعوؤں کی نفی کرتے نظر آتے ہیں۔ اعداد و شمار کی بازیگری سے عوام کا پیٹ نہیں بھرتا۔ ترقی کے گراف کاغذوں میں تو اوپر جا سکتے ہیں مگر جب تک اس کا فائدہ گلی محلے کے عام شہری تک نہ پہنچے، وہ سب بے معنی ہے۔ عوام کو تقریریں نہیں، ریلیف چاہیے۔ انہیں وعدے نہیں، عملی اقدامات درکار ہیں
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ احتجاج اور آواز اٹھانے کو بھی جرم بنا دیا گیا ہے۔ جو بولتا ہے وہ مشکوک ٹھہرتا ہے، جو سوال کرتا ہے وہ غدار کہلاتا ہے۔ حالانکہ جمہوریت کی بنیاد ہی سوال پر ہے۔ اگر عوام کے سوال بند کر دیے جائیں تو پھر نظام کا زوال یقینی ہو جاتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب عوام کی چیخوں کو مسلسل نظرانداز کیا گیا تو انجام کبھی اچھا نہیں ہوا۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ حکمران طبقہ سنجیدگی سے عوامی مسائل کی طرف توجہ دے۔ نمائشی اقدامات اور وقتی ریلیف سے آگے بڑھ کر مستقل اور دیرپا پالیسیاں بنائی جائیں۔ مہنگائی پر قابو پانے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو اولین ترجیح بنایا جائے۔ اگر عوام کو یہ احساس ہو جائے کہ ریاست ان کے ساتھ کھڑی ہے تو یہی عوام ہر مشکل میں ریاست کا سہارا بنیں گے۔
ملکی صورتحال دیکھ کر یہی کہا جا سکتا ہے کہ عوام دشمنی کسی بھی حکومت کے لیے خودکشی کے مترادف ہوتی ہے۔ چیخیں دبائی جا سکتی ہیں مگر ختم نہیں کی جا سکتیں۔ بہتر یہی ہے کہ ان چیخوں کو سنا جائے، سمجھا جائے اور ان کا مداوا کیا جائے۔ ورنہ تاریخ یہی لکھے گی کہ ایک وقت ایسا بھی آیا تھا جب اس ملک کے عوام چیخ رہے تھے اور ایوان خاموش تھے
آخر میں ناچیز کا شعر
بکھرے ہوئے وجود کو دیکھا تو یوں لگا
جیسے میرے عوام کی چیخیں نکل گئیں