روزے کی حالت میں روسٹرم پر گیا، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ بات سنے بغیر چلے گئے سہیل آفریدی

 چیف جسٹس کو سلام کیا مگر جواب بھی نہیں دیا، چیف جسٹس سے ملاقات نہیں ہوتی تھی اس لئے اوپن کورٹ میں چیف جسٹس سے بات کرنے کی کوشش کی
 دکھانا چاہتے ہیں  پاکستان تحریک انصاف احتجاجی یا انتشاری سیاست نہیں کرتی،  تمام آپشنز استعمال کرنے کے بعد پر امن احتجاج کرتے ہیں جو ہمارا حق ہے
اسلام آباد(آئی این پی ) وزیراعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس سرفراز ڈوگر کی عدالت کے روسٹرم پر جا کر بات کرنے کی کوشش تاہم چیف جسٹس بات سنے بغیر چیمبر میں چلے گئے۔وزیر اعلی کے پی چیف جسٹس سرفراز ڈوگر سے بات کرنے اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچے تھے۔سہیل آفریدی کو چیف جسٹس کے سیکرٹری سے ملاقات کے لیے سیکرٹری کے آفس میں آنے کا پیغام دیا گیا، جس پر انہوں نے جواب دیا کہ بانی پی ٹی آئی کے کیسز نہیں لگ رہے اوپن کورٹ میں ہی بات کروں گا، بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہنیں عظمی خان، نورین خان اور علیمہ خان بھی اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچی تھیں۔بعد ازاں، میڈیا سے گفتگو میں وزیراعلی کے پی سہیل آفریدی نے کہا کہ چیف جسٹس سے ملاقات نہیں ہوتی تھی اس لیے اوپن کورٹ میں چیف جسٹس سے بات کرنے کی کوشش کی، میں رمضان میں روزے کی حالت میں روسٹرم پر گیا اور چیف جسٹس کو سلام کیا مگر انہوں نے سلام کا جواب بھی نہیں دیا۔ان کا کہنا تھا کہ ہم دکھانا چاہتے ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف احتجاجی یا انتشاری سیاست نہیں کرتی، ہم بتانا چاہتے ہیں کہ تمام آپشنز استعمال کرنے کے بعد پر امن احتجاج کرتے ہیں جو ہمارا حق ہے۔سہیل آفریدی نے کہا کہ سوا گھنٹہ انتظار کرنے کے بعد چیف منسٹر کو سلام کا جواب تک نہیں دیا گیا، شوکت خانم ہسپتال کے ڈاکٹرز سے طبی معائنہ کی درخواست جمع کرائی لیکن درخواست ہی نہیں لگی۔