پنجاب میں 7 بڑے منظم جرائم کے خلاف نئے خصوصی ڈپارٹمنٹ کے قیام کا فیصلہ

پنجاب میں 7 بڑے منظم جرائم کے خلاف نئے خصوصی ڈپارٹمنٹ کے قیام کا فیصلہ

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت لاہور میں ایک اہم اجلاس ہوا، جس میں پنجاب میں منظم جرائم کے خاتمے کے لیے کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ (CCD) کے قیام کا فیصلہ کیا گیا۔

سی سی ڈی کے قیام کے مقاصد:
اجلاس میں طے پایا کہ پنجاب میں 7 بڑے منظم جرائم کی روک تھام کے لیے جدید ٹیکنالوجی پر مبنی سی سی ڈی قائم کیا جائے گا، جو درج ذیل جرائم کے خلاف کارروائی کرے گا:

ڈکیتی
رہزنی
زیادتی
قتل
چوری
لینڈ مافیا
قبضہ مافیا
یہ ڈپارٹمنٹ جدید ڈرون سرویلنس ٹیکنالوجی سے لیس ہوگا، اور جرم کے وقوع پذیر ہوتے ہی محض 5 منٹ میں جائے وقوعہ پر پہنچنے کی صلاحیت رکھے گا۔

سی سی ڈی کی تشکیل اور تعیناتیاں:
سی سی ڈی کے سربراہ ایڈیشنل انسپکٹر جنرل (ایڈیشنل آئی جی) ہوں گے۔
3 ڈی آئی جی، ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں ایس ایس پی اور ایس پی، جبکہ ہر ضلع میں ڈی ایس پی تعینات کیا جائے گا۔
مجموعی طور پر 4,258 افسران اور اہلکار سی سی ڈی میں تعینات کیے جائیں گے۔
پنجاب پولیس کے 2,258 افسران اور اہلکاروں کو فوری طور پر سی سی ڈی میں ٹرانسفر کیا جائے گا۔
جدید سہولیات اور اختیارات:
وزیراعلیٰ پنجاب نے سی سی ڈی کے لیے بلڈنگز، گاڑیوں اور جدید آلات کی منظوری دے دی۔
ڈپارٹمنٹ کو جرائم اور مجرموں کا ڈیٹا مینجمنٹ سسٹم سنبھالنے کی بھی ذمہ داری سونپی جائے گی۔
سی سی ڈی کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کے لیے فوری قانون سازی کا بھی حکم دیا گیا ہے۔
یہ اقدام پنجاب میں منظم جرائم کے خاتمے اور جدید پولیسنگ کے فروغ میں ایک انقلابی قدم ثابت ہو سکتا ہے۔

یہ اقدام پنجاب میں منظم جرائم کے خاتمے اور جدید پولیسنگ کے فروغ میں ایک انقلابی قدم ثابت ہو سکتا ہے۔