آئی ایم ایف بھی نظام عدل کے بارے میں چیف جسٹس سے سوال کرنے پر مجبور ہوگیا: شاہد خاقان عباسی

آئی ایم ایف بھی نظام عدل کے بارے میں چیف جسٹس سے سوال کرنے پر مجبور ہوگیا: شاہد خاقان عباسی

سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے قومی کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج چیف جسٹس اپنی مرضی سے بنچ نہیں بنا سکتا، آئینی مقدمہ نہیں سن سکتا، اور سوموٹو نوٹس نہیں لے سکتا۔

 انہوں نے مزید کہا کہ اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ آئی ایم ایف جیسا عالمی ادارہ بھی مجبور ہوگیا کہ وہ چیف جسٹس سے پوچھے کہ عدلیہ کا نظام کیسے چل رہا ہے۔شاہد خاقان عباسی نے اپنے خطاب میں آئین اور قانون کی حکمرانی کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ اگر آئین اور قانون کی بالادستی قائم نہیں کی جاتی، تو سیاسی انتشار اور ملکی معیشت کی ترقی میں رکاوٹیں آئیں گی۔ انہوں نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ آج آئین کا لفظ حکومت کے لیے خوف کا باعث بن چکا ہے اور اس ملک میں آئین کی حکمرانی کے بارے میں بات کرنا مشکل ہوگیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت جمہوریت کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے اور عدل کے نظام کو تباہ کرنے کی سازش کر رہی ہے۔ انہوں نے خاص طور پر پیکا قوانین کی اور 26 ویں ترمیم کی مذمت کی، جو ان کے مطابق عدلیہ کے نظام کو خراب کرنے کے لیے کی گئی ہیں۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ حکومت نے ایسے قانون بنائے ہیں جو عوام کو بات کرنے سے روکتے ہیں، اور عدلیہ کے نظام کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس کو آئینی مقدمات سننے اور سوموٹو نوٹس لینے کے اختیارات سے محروم کر دیا گیا ہے، جو کہ آئین کی خلاف ورزی ہے۔