پیٹرول پر عوام کو ریلیف دو، سڑکیں اور بھی طریقوں سے بن سکتی ہیں – شاہد خاقان عباسی

پیٹرول پر عوام کو ریلیف دو، سڑکیں اور بھی طریقوں سے بن سکتی ہیں – شاہد خاقان عباسی

سابق وزیراعظم اور عوام پاکستان پارٹی کے کنوینر شاہد خاقان عباسی کی حکومت پر سخت تنقید اور کسانوں و عوامی مسائل پر شدید تحفظات کا اظہار ہے۔

 ان کے مطابق موجودہ حکومت کے فیصلے نہ صرف کسان دشمن ہیں بلکہ عام شہریوں کو درپیش مشکلات کو بھی نظر انداز کر رہے ہیں۔

خبر کی اہم باتیں:
 کسانوں کا بحران:
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ملک بھر کا کسان بدترین حالات کا شکار ہے اور کوئی سننے والا نہیں۔2023 اور 2024 میں حکومت نے کسانوں کو گندم کی مناسب قیمت نہیں دی۔کسانوں کو اپنی گندم مختلف اور کم قیمتوں (2100 سے 2400 روپے فی من) پر بیچنے پر مجبور ہونا پڑا۔اس وقت کسان کو فی من گندم کی 3,000 روپے لاگت آ رہی ہے، لیکن بیچنے پر صرف 2,100 روپے مل رہے ہیں۔مطالبہ کیا کہ اگر حکومت گندم نہیں خریدتی، تو کسان کو برآمد کرنے کی اجازت دی جائے۔
 پیٹرولیم مصنوعات پر عوامی ریلیف کی عدم فراہمی:
حکومت نے عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہونے کے باوجود عوام کو ریلیف نہیں دیا۔پرانے بلوں میں بھی 10 روپے تک کی گنجائش موجود تھی، مگر عوام کو کچھ نہ ملا۔
تنقیدی سوال: "اگر پیٹرول سے بچت نہ ہو تو کیا بلوچستان میں سڑکیں نہیں بن سکتیں؟"
حکومتی پالیسیوں پر اعتراض:
حکومت عوام کو ریلیف دینے کے ہر موقع کو ضائع کر رہی ہے۔صرف چند ووٹوں کے لیے پالیسیز بنانا نہ ملک کے لیے اچھا ہے، نہ معیشت کے لیے۔کسان کی خوشحالی کو ملکی ترقی کی بنیاد قرار دیا۔