آئی ایم ایف وفد کی چیف جسٹس سے ملاقات پر نور عالم کا سوال، خواجہ آصف کا وضاحتی جواب

آئی ایم ایف وفد کی چیف جسٹس سے ملاقات پر نور عالم کا سوال، خواجہ آصف کا وضاحتی جواب

جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی نور عالم خان نے قومی اسمبلی میں سوال اٹھایا کہ آئی ایم ایف وفد نے کس سے پوچھ کر چیف جسٹس سے ملاقات کی؟ وزیر دفاع خواجہ آصف نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف وفد نے خود چیف جسٹس سے ملاقات کا وقت مانگا تھا اور چیف جسٹس نے اس وقت کو دیا۔ خواجہ آصف نے اس ملاقات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ فنانشل ڈسپلن میں عدلیہ کا کردار بہت اہم ہے، جس کی وجہ سے آئی ایم ایف وفد نے ملاقات کی۔

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان آئی ایم ایف کے پروگرام میں مجبوری کی حالت میں شامل ہے اور پاور کمپنیوں کی نجکاری کے بارے میں بھی گفتگو کی، جس میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن دونوں شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کمپنیوں کے ملازمین کا کوئی فائدہ نہیں ہوا، اور اس کا بوجھ عوام پر پڑا ہے۔خواجہ آصف نے مزید کہا کہ سیاسی مجبوریاں اکثر ان فیصلوں میں رکاوٹ بنتی ہیں جو عوام کے مفاد میں ہوں، اور یوٹیلٹی اسٹورز پر غیر معیاری اشیاء ملنے کی شکایت کی۔ انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ کئی سرکاری ادارے خسارے میں ہیں اور ہمیں ان اداروں سے نجات حاصل کرنی چاہیے، جبکہ ملازمین کو متبادل روزگار فراہم کرنے کے لئے ایک منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔