اسرائیل نے جنگ بندی کے تحت 95 فلسطینی قیدیوں کی رہائی کا اعلان کردیا

اسرائیل نے جنگ بندی کے تحت 95 فلسطینی قیدیوں کی رہائی کا اعلان کردیا

اسرائیل نے جنگ بندی معاہدے کے تحت 95 فلسطینی قیدیوں کی فہرست جاری کی ہے جنہیں اسرائیلی یرغمالیوں کے بدلے رہا کیا جائے گا۔ فہرست میں 69 خواتین، 16 مرد، اور 10 نابالغ شامل ہیں۔

 ان قیدیوں کی رہائی اتوار سے شروع کی جائے گی۔ سب سے کم عمر قیدی 16 سال کا ہے۔ ان قیدیوں کا تعلق مختلف فلسطینی تنظیموں اور تحریکوں سے ہے جنہیں اسرائیل نے جنگ کے آغاز کے بعد حراست میں لیا تھا۔اس فہرست میں اہم ناموں میں فلسطینی پارلیمنٹ کی رکن خالدہ جرار کا بھی شامل ہے، جنہیں جنگ کے آغاز میں اسرائیلی افواج نے گرفتار کر لیا تھا۔ وہ حراست میں ہونے کے باوجود ابھی تک کسی مقدمے کا سامنا نہیں کر رہی ہیں۔ اسرائیلی حکام کے مطابق یہ قیدیوں کی رہائی جنگ بندی معاہدے کے تحت کی جا رہی ہے، جس کی منظوری اسرائیلی سکیورٹی کابینہ اور حکومت نے دی تھی۔

یہ معاہدہ اسرائیلی یرغمالیوں کے بدلے قیدیوں کی رہائی کے لیے کیا گیا ہے تاکہ دونوں فریقوں میں معاہدے کے مطابق جنگ بندی اور قیدیوں کی منتقلی کے عمل کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔ اس معاہدے کے تحت قیدیوں کی رہائی سے قبل دونوں فریقین کے درمیان مختلف مذاکرات اور اقدامات کیے گئے ہیں۔اسرائیل نے اس معاہدے کے تحت فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنے کی اجازت دی ہے تاکہ دونوں طرف کی سیاسی کشیدگی میں کمی لائی جا سکے اور موجودہ جنگ بندی معاہدے کو کامیاب بنایا جا سکے۔