جب کوئی صارف اپنی معلومات یا او ٹی پی کسی کو بتا دیتا ہے تو سیکنڈز میں رقم ٹرانسفر کرلی جاتی ہے ،بینکنگ فراڈ کے 27ہزار کیسز میں زیادہ تر اے ٹی ایمز سے متعلق تھے
کوئی بھی ایسی کال جس میں پلس کا نشان ہو یا دو صفر شامل ہوں اسے کولڈ کال کہا جاتا ہے اسے ریسیو بالکل نہ کریں، سراج الدین کی ٹی وی پروگرام میںگفتگو
اسلام آباد (آئی این پی ) وفاقی بینکنگ محتسب سراج الدین نے کہا ہے کہ گذشتہ سال میں بینکنگ فراڈ کے 27ہزار کیسز رپورٹ ہوئے ،جس میں زیادہ تر اے ٹی ایمز سے متعلق تھے، کوئی بھی ایسی کال جس میں پلس کا نشان ہو یا دو صفر شامل ہوں اسے کولڈ کال کہا جاتا ہے اسے ریسیو بالکل نہ کریں۔ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے صارفین کو بینکنگ فراڈ سے متعلق خبردارکرتے ہوئے اس سے بچنے کیلئے احتیاطی تدابیر سے آگاہ کیاہے۔انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ کسی صارف کے کچھ کیے بغیر اس کے اکائونٹ سے رقم نکال لی جائے۔ انہوں نے بتایا کہ بینکنگ فراڈ کے زیادہ تر درخواست گزار وہ لوگ ہیں جو کسی جعلی کال کے جھانسے میں آئے کیوں کہ جب کوئی صارف اپنے اکائونٹ یا اپنی ذاتی معلومات کسی کو فراہم کردیتا ہے تو فراڈ کرنے والے کو اس کے اکائونٹ تک رسائی میں آسانی ہوجاتی ہے۔وفاقی بینکنگ محتسب نے کہا کہ بینک کا اپنا سیکورٹی نظام بہت محفوظ ہے لیکن جب کوئی صارف اپنی معلومات یا او ٹی پی (ون ٹائم پاس ورڈ) کسی کو بتا دیتا ہے تو سیکنڈوں میں رقم ٹرانسفر کرلی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی صارف کو کوئی ایسی کال موصول ہو جس میں پلس کا نشان ہو یا دو صفر شامل ہوں تو اس کال کو ریسیو بالکل نہ کریں۔اس طرح کا فراڈ کرنے والے بہت زیادہ تحمل اور مخلص ہونے کا ڈراما کرتے ہیں یا دھمکی آمیز لہجے میں بات کرتے ہیں اور خود کو کسی ادارے یا لاء انفورسمنٹ ایجنسی کا نمائندہ ظاہر کرتے ہیں۔تمام صارفین اس بات کو ذہن نشین کرلیں کہ کسی بھی بینک کا نمائندہ آئوٹ بانڈ کال نہیں کرسکتا، لہٰذا کوئی بھی ایسی کوئی کال رجسٹرڈ نمبر سے بھی آئے تو اس کو کوئی جواب ہی نہ دیں۔