امریکہ کے ریاست لوئیزیانا سے سامنے آیا، جہاں فائبربونڈ نامی فیکٹری کے مالک گراہم واکر نے اپنے 540 ملازمین کو مجموعی طور پر 240 ملین ڈالر (تقریباً 67 ارب پاکستانی روپے) کرسمس بونس دینے کا اعلان کیا۔
یہ رقم کمپنی کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کا 15 فیصد تھی، جو واکر نے خریداروں کے سامنے شرط کے طور پر رکھی تھی۔کمپنی کی فروخت 1.7 ارب ڈالر میں ہوئی اور واکر نے شرط رکھی کہ ملازمین کو فروخت کی رقم کا 15 فیصد دیا جائے گا، کیونکہ ملازمین کے پاس کمپنی میں شیئرز نہیں تھے۔بونس کی ادائیگی جون میں شروع ہوئی اور ہر ملازم کو اوسطاً 4 لاکھ 43 ہزار ڈالر ملیں گے، جبکہ طویل عرصے سے کام کرنے والے ملازمین کو زیادہ رقم ملی۔ملازمین نے بونس کی رقم سے اپنی مالی مشکلات دور کیں، قرضے اتارے، گاڑیاں خریدیں، بچوں کی تعلیم کے اخراجات پورے کیے، اور کچھ نے کاروبار یا ریٹائرمنٹ کے لیے رقم محفوظ کی۔بونس کی رقم سے نہ صرف ملازمین کی زندگی بدل گئی بلکہ 12 ہزار آبادی والے قصبے منڈن کی معیشت پر بھی مثبت اثر پڑا۔ میئر نک کاکس کے مطابق شہر میں خرچ ہونے والی بڑی رقم کی وجہ سے گہماگہمی پیدا ہوئی۔
فائبربونڈ کی بنیاد 1982 میں رکھی گئی، اور کمپنی نے مختلف مالی چیلنجز کے باوجود ملازمین کو تنخواہیں ادا کیں، جس کے بعد گراہم واکر نے کمپنی کو سنبھالا اور نئی حکمت عملی کے تحت کاروبار کو بڑھایا۔گراہم واکر کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد ملازمین کی زندگیوں میں بہتری لانا اور قصبے کے لیے کچھ مثبت کرنا تھا۔ ملازمین نے بھی اس بونس کو اپنی زندگی کی اہم کامیابی قرار دیا۔یہ واقعہ کاروباری دنیا میں ایک مثالی اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں مالک نے اپنے ملازمین کی محنت اور وفاداری کو اہمیت دی اور انہیں مالی طور پر مضبوط بنایا۔