سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سنی اتحاد کونسل مذاکرات کو 31 جنوری تک منطقی انجام تک پہنچانے کا ارادہ رکھتی ہے۔
ان مذاکرات کی قیادت پی ٹی آئی کے رہنما عمر ایوب کر رہے ہیں۔ صاحبزادہ حامد رضا نے مزید کہا کہ 26 نومبر کے دن ملک بھر میں گولی چلائی گئی اور اس دن ہمارے 13 کارکنان شہید ہوئے، جنہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جنہوں نے گولی چلانے کا حکم دیا، وہ 26 مئی کے واقعہ کے ذمہ دار ہیں۔صاحبزادہ حامد رضا نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے پاکستان اور پاکستان کی بقاء کے لیے تمام ناروا سلوک معاف کرنے کی پیشکش کی ہے اور کہا کہ وہ اپنے آپ سے ہوئے تمام ناروا سلوک کو معاف کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ان کے دو اہم مطالبات ہیں: ایک تو یہ کہ 9 مئی کے واقعہ کے حوالے سے جو الزام ہم پر عائد کیا گیا ہے، اس کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے تین سینئر ججز پر مشتمل جوڈیشل کمیشن بنایا جائے تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ کون لوگ 9 مئی کو عوام کو اشتعال دلا رہے تھے۔
دوسرا مطالبہ یہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو رہا کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کسی ڈیل کے نتیجے میں نہیں ہونی چاہیے بلکہ بانی پی ٹی آئی اپنے تمام مقدمات کا سامنا عدالتوں میں کرنے کے خواہاں ہیں۔صاحبزادہ حامد رضا نے یہ بھی کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے کرم کے معاملے پر علی امین گنڈاپور سے خصوصی گفتگو کی ہے۔اس ملاقات میں پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹی کے رہنما جیسے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور، عمر ایوب، اسد قیصر، سلمان اکرم راجہ سمیت دیگر رہنما بھی شریک تھے۔اسی دوران اڈیالہ جیل کے باہر بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان نے بھی اپنے بھائی کا موقف پیش کیا۔ انہوں نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی نے کہا ہے کہ اگر تمام قیدیوں کو رہا کر دیا جائے تو وہ جیل میں رہنے کے لیے تیار ہیں، تاہم وہ ہاؤس اریسٹ میں نہیں جانا چاہتے۔ علیمہ خان نے مزید کہا کہ عمران خان اپنے مقدمات کا سامنا کر کے بے گناہ ثابت کریں گے۔