سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا کے گھر پر چھاپے کا دعویٰ

سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا کے گھر پر چھاپے کا دعویٰ

صاحبزادہ حامد رضا، جو سنی اتحاد کونسل کے سربراہ ہیں، نے دعویٰ کیا ہے کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے قبل ان کے گھر پر چھاپہ مارا گیا تھا۔

 انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اس چھاپے کی تفصیلات بتائیں اور کہا کہ چھاپے کی وجہ سے وہ پارلیمانی کمیٹی میں وقت پر نہیں پہنچ سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں پیغام پہنچانے کی جو کوشش کی گئی تھی وہ انہیں موصول ہو گئی تھی۔صاحبزادہ حامد رضا نے واضح طور پر کہا کہ وہ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ ہیں اور اگر آئندہ ان کے گھر پر بغیر اطلاع کے چھاپہ مارا گیا تو وہ اس کو تسلیم نہیں کریں گے اور واپس نہیں جانے دیں گے۔ ان کا یہ بیان حکومت پر تنقید کے طور پر لیا جا سکتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اپوزیشن کے احتجاج کی توقع کی جا رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کی یہ کوشش رہی ہے کہ وہ اپنے پیغام اور موقف کو عوام تک پہنچا سکیں، لیکن چھاپے کی وجہ سے ان کی موجودگی میں تاخیر ہوئی۔ ان کا موقف واضح طور پر بانی پی ٹی آئی کے ساتھ مکمل حمایت کے حوالے سے ہے، جو سیاسی تنازعات میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب پورے ملک میں سیاسی کشیدگی عروج پر ہے اور مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی گرفتاریوں اور چھاپوں کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔