فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے سانحہ 9 مئی میں ملوث مزید 60 افراد کو سزا سنا دی ہے۔
یہ سزائیں جناح ہاؤس، جی ایچ کیو، اے آئی ایم ایچ راولپنڈی، پنجاب رجمنٹ سنٹر مردان اور دیگر فوجی اداروں پر حملوں میں ملوث افراد کے خلاف سنائی گئی ہیں۔ ان سزاؤں کی بنیاد سپریم کورٹ کے فیصلے پر رکھی گئی ہے۔آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، حسان خان نیازی، جو جناح ہاؤس پر حملے میں ملوث تھے، کو 10 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی۔ اس کے علاوہ دیگر مجرمان میں میاں عباد فاروق، رئیس احمد، ارزم جنید، اور علی رضا شامل ہیں، جنہیں جناح ہاؤس حملے میں ملوث ہونے پر 2 سے 6 سال تک قید کی سزائیں دی گئی ہیں۔اسی طرح، جی ایچ کیو حملے میں ملوث سید حسن شاہ کو 9 سال قید بامشقت کی سزا دی گئی ہے۔ اے آئی ایم ایچ راولپنڈی پر حملے میں ملوث علی حسین کو 7 سال قید، پنجاب رجمنٹ سنٹر مردان پر حملے میں ملوث زاہد خان کو 2 سال قید، اور ہیڈکوارٹر دیر سکاؤنٹس تیمرگرہ پر حملے میں ملوث سہراب خان کو 4 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
مزید برآں، بریگیڈیئر (ر) جاوید اکرم، جو جناح ہاؤس حملے میں ملوث تھے، کو 6 سال قید بامشقت کی سزا دی گئی۔ اس کے علاوہ، ملتان کینٹ چیک پوسٹ حملے میں ملوث خرم لیاقت کو 4 سال، قلعہ چکدرہ حملے میں ملوث ذاکر حسین کو 7 سال، اور بنوں کینٹ حملے میں ملوث امین شاہ کو 9 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔یہ سزائیں فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی جانب سے تمام شواہد کی جانچ پڑتال کے بعد سنائی گئی ہیں، اور یہ یقینی بنائی گئی کہ مجرموں کو قانونی حقوق کی مکمل فراہمی کے تحت سزا دی گئی۔ اس سے قبل 25 افراد کو بھی سانحہ 9 مئی میں ملوث ہونے پر سزائیں دی جا چکی ہیں۔ یہ تمام سزائیں ملکی سلامتی کے اداروں پر حملوں کے مقدمات میں دی گئی ہیں، اور یہ عدلیہ کے شفاف اور قانونی عمل کا حصہ ہیں۔