اپوزیشن کو بولنے کا موقع دینا ترجیح سپیکر پنجاب اسمبلی

پنجاب اسمبلی سے پاس کیے گئے بلوں کے معاشرے پر دیرپا اثرات ہوں گے،اسمبلی کی کارکردگی کا جائزہ لینا عوام اور میڈیا کا حق ،ملک احمد خان
لاہور (سپیشل رپورٹر) سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے پنجاب اسمبلی کی گذشتہ آٹھ ماہ کی کارکردگی کے حوالے سے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی کی کارکردگی کا جائزہ لینا عوام اور میڈیا کا حق ہے،ہماری کوشش رہی ہے کہ حکومت کو اپنا کردار ادا کرنے دیا جائے اور اپوزیشن کو اپنا موقف پیش کرنے کا پورا موقع فراہم کیا جائے۔انہوں نے قواعد و ضوابط میں ترامیم کو ایک بڑا سنگ میل قرار دیا اور بتایا کہ یہ ترامیم متفقہ طور پر منظور کی گئیں، جو اسمبلی کو مزید مضبوط اور عوام کو زیادہ بااختیار بنانے کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ سپیکر نے بتایا کہ یہ ترامیم پارلیمنٹ کی طاقت اور عوامی نمائندگی کے اصولوں کو فروغ دینے کے لیے نہایت اہم ہیں۔سپیکر ملک محمد احمد خان نے آٹھ ماہ کی قانون سازی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اسمبلی نے اس دوران بارہ اہم قوانین منظور کیے، جو معاشرتی، قانونی، اور عوامی بہبود پر گہرے اثرات ڈالیں گے، اکثریتی رائے کو ترجیح دیتے ہوئے عوام کی فلاح کے لیے قانون سازی کی گئی۔سپیکر ملک محمد احمد خان نے پنجاب کے سرحدی علاقوں میں رہنے والے افراد کے مسائل پر تفصیل سے گفتگو کی اور ان کے بنیادی حقوق کی بحالی کے لیے ایک خصوصی کاکس کے قیام کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان علاقوں کے مکین اپنی زمین سے ایک درخت تک کاٹنے کے مجاز نہیں، جو ان کے حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے اس مسئلے کو جلد حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔سپیکر ملک محمد احمد خان نے کہا کہ اسمبلی نے ہر موقع پر عوامی بہبود کو اولین ترجیح دی ہے، اور آئندہ بھی اس پر عمل جاری رکھا جائے گا۔سپیکر ملک احمد خان نے کہا حکومت کو راستہ دینا اور اپوزیشن کو بولنے کا موقع دینا ہماری ترجیح ہے، آٹھ ماہ میں پاس کیے گئے بارہ بلوں کے معاشرے پر دیرپا اثرات ہوں گے،احتجاج کو تشدد میں تبدیل نہ کریں،پرامن طریقے سے مسائل حل کریں،قواعد و ضوابط میں ترمیم ایک بڑا کام تھا، جو الحمدللہ متفقہ طور پر منظور ہوا۔انہوں نے مزید کہا اسمبلی کی طاقت عوام کی طاقت ہے،ہم نے پارلیمنٹ کو بااختیار بنایا،جرائم اور کرپشن کسی کا سیاسی حق نہیں ہو سکتے،،ہماری سیاست الفاظ اور بات چیت کی اہمیت پر مبنی ہے، بات چیت ضروری ہے۔