پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک (وی پی این) سروس پرووائیڈرز کی رجسٹریشن کا عمل دوبارہ شروع کر دیا ہے اور سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کو کلاس لائسنس برائے ڈیٹا سروسز دینے کی منصوبہ بندی کی ہے۔
پی ٹی اے کی نئی حکمت عملی:
پی ٹی اے کے ذرائع کے مطابق، وی پی این سروس پرووائیڈرز کو اب مقامی طور پر رجسٹرڈ کیا جائے گا، جس کے ذریعے سروس پرووائیڈرز کی مانیٹرنگ اور ریگولیشن کی جا سکے گی۔ یہ اقدام پی ٹی اے کو سائبر حملوں کی نشاندہی اور ان کا سراغ لگانے میں مدد دے گا، ساتھ ہی یہ صارفین کے ڈیٹا اور براؤزنگ ہسٹری تک رسائی کے اختیارات فراہم کرے گا۔
کلاس لائسنس کی تفصیلات:
پی ٹی اے کے مطابق، کمپنیوں کو ایک سے تین لاکھ روپے کے درمیان قیمت میں کلاس لائسنس برائے ڈیٹا سروسز حاصل کرنے کا اختیار دیا جائے گا۔ اس عمل کے تحت، کمپنیوں کے مقامی ڈیٹا سینٹرز بھی قائم کئے جائیں گے تاکہ سروس فراہم کرنے والوں کی فعالیت کو بہتر طریقے سے مانیٹر کیا جا سکے۔
سائبر سیکیورٹی کے بہتر اقدامات:
یہ اقدام پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن (PSHA) کی درخواست پر کیا گیا ہے اور اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے عملی شکل دی جا رہی ہے۔ اس فیصلے کا مقصد ملک میں سائبر سیکیورٹی کی صورتحال کو بہتر بنانا ہے تاکہ صارفین کا ڈیٹا محفوظ رہے اور انٹرنیٹ کے استعمال میں شفافیت برقرار رہے۔
ریگولیشن کے فوائد:
اس فیصلے کے ذریعے پی ٹی اے کو وی پی این سروس پرووائیڈرز کی مانیٹرنگ اور ان کی فعالیت کی نگرانی کرنے کا اختیار ملے گا، جس سے نہ صرف سائبر حملوں کے خطرات کو کم کیا جا سکے گا بلکہ غیر قانونی یا غیر محفوظ سروسز کی روک تھام بھی ممکن ہوگی۔یہ اقدام ملک میں انٹرنیٹ سروسز کی ریگولیشن میں مزید بہتری لانے کے لیے اہم قدم ثابت ہو گا، جس سے صارفین کی سیکیورٹی اور معلومات کی حفاظت میں اضافہ ہو گا۔