تنقید سے ترقی تک ، سندھ کی بدلتی تصویر

 ایڈوکیٹ رضا مراد چاچڑ
کراچی سے لے کر گمبٹ، تھر، لاڑکانہ، سکھر اور مٹھی تک اگر سندھ میں صحت کے شعبے کا غیرجانبدارانہ جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح نظر آتی ہے کہ گزشتہ برسوں میں صوبے میں صحت کی سہولیات کے حوالے سے ایسے عملی اقدامات کیے گئے جنہوں نے لاکھوں لوگوں کی زندگیوں پر مثبت اثر ڈالا۔ بدقسمتی سے سیاسی مخالفت اور مخصوص بیانیے کے باعث سندھ حکومت کی کارکردگی کو اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے، حالانکہ زمینی حقائق اس کے برعکس تصویر پیش کرتے ہیں۔اس وقت سندھ میں سرکاری سطح پر 7 ہزار 651 اسپتال، ڈسپنسریاں اور بنیادی مراکز صحت کام کر رہے ہیں جہاں تقریباً 40 ہزار بستروں کی سہولت دستیاب ہے۔ آبادی کے تناسب سے دیکھا جائے تو سندھ میں تقریباً ہر 1205 افراد کے لیے ایک بستر موجود ہے، جو ملک کے دیگر کئی صوبوں کے مقابلے میں بہتر صورتحال کو ظاہر کرتا ہے۔
2008 سے 2018 کے درمیان سندھ میں 143 نئے اسپتال قائم کیے گئے جبکہ اسی عرصے میں 723 نئی ڈسپنسریاں بھی بنائی گئیں۔ یہ اعداد و شمار اس بات کا ثبوت ہیں کہ صحت کے شعبے کو مسلسل ترجیح دی گئی۔ سندھ کے محکمہ صحت میں 14 ہزار سے زائد ڈاکٹرز، تقریباً 18 ہزار لیڈی ہیلتھ ورکرز اور سینکڑوں سپروائزرز عوام کو طبی سہولیات فراہم کرنے میں مصروف ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سرکاری میڈیکل یونیورسٹیز، نرسنگ اسکولز اور دیگر تربیتی ادارے بھی صحت کے شعبے کو مضبوط بنانے میں کردار ادا کر رہے ہیں۔
اگر جدید طبی اداروں کی بات کی جائے تو قومی ادارہ برائے امراض قلب (NICVD) سندھ حکومت کا ایک ایسا منصوبہ ہے جس نے لاکھوں دل کے مریضوں کو نئی زندگی دی۔ کراچی، خیرپور، حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ، مٹھی اور دیگر شہروں میں قائم اس کے مراکز میں اوپن ہارٹ سرجری، اینجیوپلاسٹی اور پیس میکر جیسا مہنگا علاج بھی مکمل طور پر مفت فراہم کیا جا رہا ہے۔ صرف چند برسوں میں لاکھوں مریض اس سہولت سے فائدہ اٹھا چکے ہیں۔اسی طرح جناح اسپتال کراچی میں قائم سائبر نائف ٹریٹمنٹ سینٹر کینسر کے مریضوں کے لیے امید کی ایک نئی کرن ثابت ہوا ہے۔ دنیا کے مہنگے ترین علاجوں میں شمار ہونے والی یہ سہولت سندھ میں مستحق مریضوں کو بلا معاوضہ فراہم کی جا رہی ہے۔ اب تک ہزاروں مریض اس جدید ٹیکنالوجی سے مستفید ہو چکے ہیں۔خیرپور میں قائم گمبٹ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز اور لیور اینڈ کڈنی ٹرانسپلانٹ اسپتال بھی سندھ حکومت کی ایک بڑی کامیابی ہے۔ یہاں جگر اور گردوں کی پیوندکاری جیسے پیچیدہ اور مہنگے آپریشن کامیابی سے کیے جا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نہ صرف سندھ بلکہ ملک بھر سے مریض علاج کے لیے یہاں کا رخ کرتے ہیں۔اسی طرح سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (SIUT) دنیا کے نمایاں فلاحی طبی اداروں میں شمار ہوتا ہے جہاں روزانہ ہزاروں مریضوں کا مفت علاج کیا جاتا ہے۔ ڈائیلاسز سے لے کر کامیاب ٹرانسپلانٹ تک، ہر سہولت بلا امتیاز فراہم کی جا رہی ہے۔

تھرپارکر، جسے اکثر منفی خبروں میں پیش کیا جاتا ہے، وہاں بھی صحت کے شعبے میں نمایاں بہتری دیکھی جا سکتی ہے۔ دور دراز علاقوں میں طبی مراکز، ڈاکٹرز اور ہیلتھ اسٹاف کی موجودگی نے صورتحال کو پہلے سے بہتر بنایا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تھر کے بارے میں کئی مرتبہ مبالغہ آرائی پر مبنی خبریں سامنے آتی رہی ہیں، جبکہ زمینی حقائق مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔

دوسری جانب کراچی میں میئر مرتضیٰ وہاب کی قیادت میں ترقیاتی سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے۔ سڑکوں کی تعمیر، سیوریج نظام کی بہتری، پارکس کی بحالی اور شہری سہولیات کی فراہمی پر مسلسل کام جاری ہے جبکہ سندھ کے مختلف اضلاع میں بھی سڑکوں کا جال بچھایا جا رہا ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ سندھ کو آج بھی کئی چیلنجز درپیش ہیں، لیکن یہ کہنا کہ یہاں کچھ نہیں ہوا، حقائق سے انکار کے مترادف ہوگا۔ محدود وسائل اور سیاسی مخالفت کے باوجود صحت اور ترقی کے شعبوں میں جو اقدامات کیے گئے، وہ اپنی مثال آپ ہیں۔ آج عوام صرف نعروں پر نہیں بلکہ کارکردگی پر یقین رکھتے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ سندھ میں عوامی خدمت کا سفر مسلسل جاری ہے۔

نوٹ: کالم نگار ایڈوکیٹ رضا مراد چاچڑ سندھ کے ضلع کشمور میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ترجمان اور متحرک سیاسی کارکن بھی ہیں۔