قاسم علی
آج کے ڈیجیٹل دور میں ایک مختصر ویڈیو، چند سیکنڈ کی کلپ یا آدھا سچ کئی مرتبہ پورے ادارے کی ساکھ کو متاثر کر دیتا ہے۔ سوشل میڈیا کی رفتار اتنی تیز ہے کہ کسی بھی واقعے کا ایک رخ پہلے عوام تک پہنچ جاتا ہے، جبکہ دوسرا رخ اکثر بہت دیر سے سامنے آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ذمہ دار صحافت کا تقاضا ہے کہ ہر معاملے میں تمام فریقین کا مؤقف سنا جائے اور حقائق کی روشنی میں رائے قائم کی جائے۔
چند روز قبل میو ہسپتال لاہور کی ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہی۔ ویڈیو کو مختلف انداز میں پیش کیا گیا، جس کے بعد ہسپتال انتظامیہ کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم جب اس معاملے کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کی گئی تو ایک مختلف تصویر سامنے آئی۔ہسپتال انتظامیہ کے مطابق یہ معاملہ کسی انتظامی بدسلوکی یا اختیارات کے ناجائز استعمال کا نہیں تھا بلکہ دو ملازمین کے درمیان پیدا ہونے والے باہمی تنازع کا تھا۔ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس تنازع کو بڑھانے کے بجائے اسے قانون، ادارہ جاتی قواعد و ضوابط اور باہمی افہام و تفہیم کے ذریعے حل کیا گیا۔ دونوں فریقین نے نہ صرف صلح پر رضامندی ظاہر کی بلکہ تحریری معاہدہ اور اقرار نامے پر بھی دستخط کیے، جو آج بھی ریکارڈ کا حصہ ہیں۔میو ہسپتال جیسے بڑے تدریسی ادارے میں روزانہ ہزاروں مریض علاج کی غرض سے آتے ہیں۔ ایسے ادارے میں انتظامی فیصلے جذبات کے بجائے قانون اور نظم و ضبط کے مطابق کرنا ہی اصل امتحان ہوتا ہے۔ اختلافات ہر ادارے میں پیدا ہوتے ہیں، لیکن ایک کامیاب منتظم وہی ہوتا ہے جو تنازعات کو عدالتوں، میڈیا یا سڑکوں تک پہنچنے سے پہلے ادارے کے اندر قانونی طریقے سے حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔اسی تناظر میں اگر میو ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر عبدالمدبر کا ذکر کیا جائے تو ان کے قریبی ساتھی اور کئی ملازمین انہیں ایک ذمہ دار، سادہ مزاج اور اصول پسند افسر قرار دیتے ہیں۔ ان کے بارے میں یہ رائے پائی جاتی ہے کہ وہ فیصلوں میں قانون کو ترجیح دیتے ہیں اور معاملات کو ذاتی پسند و ناپسند کے بجائے قواعد کے مطابق نمٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے حامیوں کے مطابق وہ تنازعات میں محاذ آرائی کے بجائے مفاہمت اور ادارہ جاتی استحکام کو اہمیت دیتے ہیں۔یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی بھی افسر کی اصل پہچان اس کی کرسی نہیں بلکہ اس کے فیصلے ہوتے ہیں۔ اگر ایک انتظامی سربراہ اختلافات کو ٹھنڈے دل سے سن کر دونوں فریقین کو ایک میز پر بٹھا دے، انہیں قانونی دائرے میں رہتے ہوئے صلح پر آمادہ کرے اور ادارے کے ماحول کو خراب ہونے سے بچا لے تو اسے انتظامی کامیابی تصور کیا جا سکتا ہے۔صحافت کا بھی فرض ہے کہ جہاں غلطی ہو وہاں نشاندہی کرے، لیکن جہاں کسی پر الزام عائد کیا جائے وہاں اس کا مؤقف بھی اسی اہمیت کے ساتھ عوام کے سامنے لایا جائے۔ سچائی ہمیشہ وائرل ہونے والی ویڈیو میں نہیں ہوتی، بلکہ اس کے پس منظر، دستاویزات، گواہوں اور تمام فریقین کے مؤقف کو یکجا کرنے سے سامنے آتی ہے۔
میو ہسپتال کے حالیہ واقعے نے ایک مرتبہ پھر یہ سبق دیا ہے کہ سوشل میڈیا کی عدالت میں فیصلے لمحوں میں ہو جاتے ہیں، مگر حقیقت تک پہنچنے میں وقت لگتا ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ ہم سنسنی کے بجائے ثبوت، الزام کے بجائے تحقیق اور افواہ کے بجائے حقائق کو ترجیح دیں۔ یہی ذمہ دار صحافت کا تقاضا ہے، یہی مضبوط اداروں کی بنیاد ہے اور یہی عوام کے اعتماد کو قائم رکھنے کا واحد راستہ ہے۔
—