پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے کہا ہے کہ پارٹی عہدے سے استعفیٰ دینا ایک سنجیدہ معاملہ ہے، اسے فلمی انداز میں پیش نہ کیا جائے۔
انہوں نے سلمان اکرم راجہ کے استعفے سے متعلق کہا کہ "سنا ہے وہ مستعفی ہوئے ہیں لیکن ان کا بیان ابھی نہیں پڑھا، پارٹی کے اندرونی معاملات کو عوامی سطح پر نہیں لانا چاہیے۔"اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بدقسمتی سے پارٹی کے اندر سے اکثر خبریں باہر آتی ہیں جس سے تاثر ملتا ہے کہ اختلافات ہیں۔ بانی پی ٹی آئی کی واضح ہدایات ہیں کہ کوئی پارٹی لیڈر پبلک میں استعفیٰ یا کمنٹس نہ دے۔ انہوں نے کہا کہ سلمان اکرم راجہ سمیت کسی رہنما کو پارٹی کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ٹوئٹ نہیں کرنا چاہیے، ان کے استعفے پر فیصلہ بانی پی ٹی آئی ہی کریں گے۔انہوں نے کہا کہ آج بانی سے ملاقات کی غرض سے آیا تھا لیکن پولیس نے روک دیا۔ ملاقاتوں سے روکنا مناسب عمل نہیں ہے، میں ہمیشہ مفاہمت کی بات کرتا ہوں، ناجائز سزائیں، نااہلیاں اور گرفتاریوں سے دوریاں ہی بڑھیں گی۔
ضمنی انتخابات اور پارٹی امور
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ضمنی انتخابات میں جانے یا نہ جانے کا فیصلہ بانی پی ٹی آئی کریں گے۔ پارٹی میں انتخابات میں حصہ لینے کی رائے موجود ہے لیکن حتمی فیصلہ بانی کریں گے۔ سیاسی کمیٹی نے جو فیصلہ کیا، میں اس میٹنگ میں موجود نہیں تھا۔ اگر بانی کی ہدایات انتخابات میں حصہ نہ لینے کی ہیں تو ان کی بات حتمی ہوگی۔اپوزیشن لیڈر کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ فیصلہ بھی بانی پی ٹی آئی ہی کریں گے۔ "میں نے کہیں پر اپنے آپ کو امیدوار پیش نہیں کیا۔ ہم نے اپوزیشن لیڈر کی نشست پر اسٹے لیا ہوا ہے، پارلیمنٹ اپوزیشن لیڈر کے بغیر بھی چل سکتی ہے۔"
پارٹی کے اندرونی معاملات اور علیمہ خان پر وضاحت
انہوں نے کہا کہ ہمارے کسی سطح پر حکومت سے مذاکرات نہیں ہو رہے۔ یہ تاثر غلط ہے کہ علیمہ خان پارٹی معاملات میں اثر انداز ہو رہی ہیں۔ پارٹی کے تمام فیصلے بانی پی ٹی آئی خود کرتے ہیں۔
سیلاب متاثرین کے حوالے سے وفاق پر تنقید
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ سیلاب کی تباہ کاریاں اللہ کی طرف سے ایک آزمائش ہیں۔ وہ بونیر میں سیلاب متاثرین کے ساتھ تھے جہاں دس اضلاع متاثر ہوئے ہیں۔ وفاق نے صرف 200 ٹینٹ، 5 جنریٹر، 5 ڈی واٹرنگ پمپ، 500 کلو گرام ادویات اور 1400 خیمے فراہم کیے ہیں جبکہ 200 چیک بھی دیے گئے ہیں۔ گوہر خان نے کہا کہ وفاقی حکومت کی امداد ناکافی ہے اور اسے دل کھول کر مدد کرنی چاہیے۔