دنیا بھر میں اب بھی تقریباً 2 ارب سے زائد افراد پینے کے صاف پانی تک رسائی سے محروم ہیں، جبکہ ہر چار میں سے ایک شخص کو بنیادی پینے کے پانی کی سہولت میسر نہیں ہے۔
عالمی ادارۂ صحت (WHO) اور یونیسیف کی مشترکہ رپورٹ کے مطابق، 10 کروڑ سے زیادہ لوگ اب بھی دریا، تالاب اور نہروں کے پانی پر انحصار کرتے ہیں، جو صفائی اور صحت کے حوالے سے سنگین خطرات پیدا کرتا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پانی، صفائی اور حفظانِ صحت کی ناکافی سہولتیں اربوں افراد کو بیماریوں کے شدید خطرات میں مبتلا کر رہی ہیں، اور یہ صورتحال خاص طور پر ترقی پذیر ممالک میں سنگین ہے۔مزید برآں، رپورٹ کے مطابق دنیا کے 28 ممالک، جن میں زیادہ تر افریقہ کے ممالک شامل ہیں، میں ہر چار میں سے ایک سے زائد افراد اب بھی بنیادی پانی اور حفظانِ صحت کی سہولتوں سے محروم ہیں، جس سے صحت اور معاشرتی ترقی پر براہِ راست اثر پڑ رہا ہے۔رپورٹ میں عالمی برادری سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ پانی اور صفائی کے بنیادی وسائل تک سب کی رسائی کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کرے، تاکہ بیماریوں کے پھیلاؤ اور انسانی مشکلات کو کم کیا جا سکے۔