ویب ڈیسک: پانی زندگی کے لیے بے حد ضروری ہے، مگر آئرلینڈ میں پیش آنے والا ایک واقعہ یہ سوال اٹھاتا ہے کہ کیا پانی کی زیادتی انسان کی جان بھی لے سکتی ہے؟
پچھلے ہفتے ڈبلن، آئرلینڈ کے رہائشی 59 سالہ سین اوڈنیل چیک اپ کے لیے ہسپتال گئے۔ طبی عملے نے انہیں زیادہ پانی پینے کی ہدایت کی، جس پر سین نے چھ گلاس پانی پی لیا۔ تاہم، پانی کی زیادہ مقدار کے باعث سین کی طبیعت بگڑ گئی اور اچانک ہارٹ اٹیک نے اس کی زندگی کا خاتمہ کر دیا۔ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ایک وقت میں پانچ یا چھ گلاس پانی یا کوئی مائع پینا خطرناک ہو سکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پانی کی زیادتی سے خون میں سوڈیم کی کمی ہو جاتی ہے، جس کی وجہ سے پانی دماغ میں پہنچ کر اسے پھلانے لگتا ہے۔
چونکہ دماغ کھوپڑی میں مقید ہوتا ہے، اس لیے وہ زیادہ نہیں پھول پاتا اور پورے جسم کو تشنج کا شکار کر دیتا ہے، جس کے نتیجے میں ہارٹ اٹیک یا فالج کا حملہ ہو سکتا ہے۔ اس حالت کو ’’Hyponatremia‘‘ کہا جاتا ہے۔جدید تحقیق کے مطابق، مارشل آرٹس کے مشہور اداکار بروس لی کی موت بھی اسی حالت کی وجہ سے ہوئی تھی۔ یہ واقعہ پانی کی زیادتی کے خطرات کو اجاگر کرتا ہے، اور ہمیں پانی کی مقدار پر دھیان دینے کی اہمیت بتاتا ہے۔