دنیا کی دو بڑی معیشتوں امریکا اور چین کے درمیان تجارتی تنازع ایک بار پھر سرخیوں میں آگیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیجنگ کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر چین نے نایاب معدنیات سے تیار ہونے والے میگنیٹس کی برآمدات روکی تو امریکا چین پر 200 فیصد تک درآمدی ٹیرف عائد کر سکتا ہے۔صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ “چین کو ہمیں میگنیٹس دینا ہوں گے، اگر وہ نہیں دیتے تو ہمیں اِن پر 200 فیصد ٹیرف لگانا پڑے گا، تاہم مجھے لگتا ہے کہ ایسا مسئلہ پیش نہیں آئے گا۔”انہوں نے ایک جانب بیجنگ کے ساتھ بہتر تعلقات کی امید ظاہر کی اور عندیہ دیا کہ ممکن ہے رواں سال یا آئندہ برس کے آغاز میں چین کا دورہ کریں، مگر دوسری جانب چین کو خبردار بھی کیا کہ “ہمارے پاس ناقابلِ یقین کارڈز موجود ہیں، اگر ہم نے وہ کھیلے تو چین کے لیے تباہ کن ثابت ہوں گے۔”
غیر ملکی میڈیا کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان موجودہ کشیدگی کی بنیادی وجہ نایاب معدنیات ہیں، جنہیں موبائل فونز، برقی آلات، جدید ٹیکنالوجی اور جنگی طیاروں تک ہر جگہ استعمال کیا جاتا ہے۔دنیا میں ان نایاب معدنیات کی سب سے بڑی پیداوار چین میں ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ واشنگٹن اسے اپنی بڑی اسٹریٹجک کمزوری سمجھتا ہے۔امریکا اور چین کے درمیان یہ نیا تناؤ عالمی تجارتی منڈیوں اور ٹیکنالوجی انڈسٹری کے لیے اہم اثرات مرتب کر سکتا ہے۔