آسٹریلیا کا ایرانی سفیر ملک بدر کرنے کا اعلان

آسٹریلیا کا ایرانی سفیر ملک بدر کرنے کا اعلان

سڈنی: آسٹریلیا اور ایران کے تعلقات میں کشیدگی نئی سطح پر پہنچ گئی ہے۔

 آسٹریلوی حکومت نے ایران پر ملک میں ہونے والے یہودی مخالف حملوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے ایرانی سفیر کو ملک بدر کرنے کا اعلان کیا ہے۔وزیر اعظم انتھونی البانیز نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ خفیہ اداروں کی رپورٹوں کے مطابق ایران کی حکومت براہِ راست میلبرن اور سڈنی میں یہودی کمیونٹی پر حملوں کے پیچھے ہے۔ ان کے مطابق یہ ناقابلِ برداشت مداخلت ہے، جس پر فوری اقدام ناگزیر تھا۔انہوں نے کہا کہ حکومت جلد ہی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے لیے پارلیمنٹ میں قانون سازی کرے گی۔ اس فیصلے کو خطے اور عالمی سطح پر ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب وزیر خارجہ نے اعلان کیا کہ ایرانی سفیر اور 3 دیگر اہلکاروں کو آسٹریلیا چھوڑنے کے لیے 7 دن کی مہلت دی گئی ہے، جبکہ تہران میں آسٹریلیا کے سفارت خانے کی کارروائیاں بھی فی الفور معطل کر دی گئی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام آسٹریلیا کی مشرقِ وسطیٰ سے متعلق پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی ہے، جو نہ صرف دونوں ملکوں کے تعلقات پر اثرانداز ہوگا بلکہ خطے کی مجموعی سفارت کاری پر بھی گہرے اثرات مرتب کرے گا۔