ڈاکٹر جمشید نظر
ہم سب زندگی میں کبھی نہ کبھی ایسے مقام پر آ کھڑے ہوتے ہیں، جہاں سب کچھ ہوتے ہوئے بھی کچھ نہیں ہوتا۔ جسم سلامت، رزق موجود، رشتے قائم، لیکن اندر سے خالی… جیسے کسی نے روح نکال لی ہو اور صرف جسم چل رہا ہو۔میں ایک نوجوان سے ملا، نظر جھکی ہوئی، چہرہ بجھا ہوا، الفاظ ڈھونڈنے پر بھی نہ ملیں۔ کہنے لگا’’سر، مجھ سے اب کچھ نہیں ہوتا، دل کرتا ہے کہ بس سوتا رہوں، نہ کوئی بات، نہ کوئی کام، نہ کوئی خواب،زندگی بے معنی اور فضول لگنے لگی ہے۔‘‘میں نے اس کی بات غور سے سنی اور پھر آہستہ سے پوچھا’’کبھی ٹوٹا ہوا شیشہ جوڑا ہے؟‘‘کہنے لگا’’نہیں‘‘میں نے مسکرا کر کہا’’میں نے جوڑا ہے اور جب جوڑ لیا تو پتہ چلا وہ پہلے سے زیادہ قیمتی ہو گیا ہے کیونکہ ٹوٹے شیشہ کی ہر دراڑ نے ایک کہانی سنائی، ہر کنارے نے صبر سکھایا،ہم سب اپنی زندگی میں شیشے ہوتے ہیں۔ کبھی حالات سے، کبھی رشتوں سے، کبھی خود اپنی توقعات سے ٹوٹتے ہیں اور جب ہم ٹوٹتے ہیں تو ہماری پہلی کیفیت یہی ہوتی ہے جو تمہیں ہو رہی ہے’’سستی، کاہلی، بے چینی، اور بے زاری لیکن دوست یہ ختم ہونا نہیں، یہ’’تھک جانا‘‘ ہے اورتم تھک گئے ہو اور یہ کوئی جرم نہیں۔تم بوجھ اٹھا اٹھا کر جھک گئے ہو،یہ ہار نہیںبلکہ وہ وقفہ ہے جو ہر بڑے انسان کی زندگی میں آیا کرتا ہے۔
دنیا میں ہر مضبوط انسان نے ایک نہ ایک وقت میں یہی محسوس کیا ہے کہ بس! اب مجھ سے نہیں ہو رہامگر فرق صرف اتنا تھا کہ انہوں نے اس لمحے کواختتام نہیں،آغاز سمجھا۔یہ وقت، جب تم خود کو بے کار، ناکارہ اور سست سمجھ رہے ہو یہ دراصل اللہ کا تمہیں ’’وقفہ‘‘ دینے کا طریقہ ہے یہ وہ لمحے ہیں جب تمہیں خود سے ملنے کا موقع ملتا ہے ۔تمہیں سوچنے کا موقع ملتا ہے’’میں کیا تھا، کہاں جا رہا ہوں اور مجھے کس طرف جانا ہے؟‘‘ایسے وقت میں کچھ منٹ نکالو،نماز پڑھو، قرآن کی آیت پڑھو، درود شریف پڑھو، اورتنہائی میںاللہ کو محسوس کرو، کہو’’یا اللہ! مجھے خود سے جوڑ دے!‘‘تم دیکھو گے اندر ایک اجالا سا ہونے لگا ہے جس دل میں اللہ کا نام ہو، وہ کبھی پریشان ،مایوس،ناکام نہیں رہتا۔ چند دنوں میں دل ہلکا ، ذہن صاف اور جسم میں توانائی محسوس ہوگی پھرتم وہی کام کرنے لگو گے جو تمہیں ناممکن لگتے تھے ۔ہر کامیاب انسان کے پیچھے ایک وقت ایسا بھی ہوتا ہے جو وہ کسی کو نہیں دکھاتا، وہ تنہائی میںرویا،اپنوں کے ہوتے بکھرا، ٹوٹالیکن ہار نہیں مانی۔زندگی کبھی سیدھی لکیر میں نہیں چلتی یہ کبھی تمہیں اونچائی پر لے جاتی ہے اور کبھی اتنا نیچے گرا دیتی ہے کہ اپنا عکس بھی نظر نہیں آتا مگر یہی وہ وقت ہوتا ہے جب انسان خود کو دوبارہ بناتا ہے۔
میں نے محسوس کیا میرے پانچ منٹ کے موٹیویشنل لیکچر کا اس لڑکے کے دل پر کچھ اثرضرور ہورہا،وہ خاموشی سے اٹھ کرچلا گیا،کچھ ہفتوں بعد وہی لڑکا مجھے دوبارہ ملا ، اس کے چہرے پرہلکی سی چمک،نظریں بلنداورچال میں جذبہ تھا،وہ مسکرا کر بیٹھا اور بولا ’’سر، میںنے سونا بند کردیا، خود کو اللہ سے جوڑدیاہے،اب مجھے مشکلات،مصیبتوں ،ناکامیوں کا خوف نہیںکیونکہ اب میرے ساتھ میرا اللہ ہے ،میں نے عبادت کے ساتھ نوکری اور پڑھائی پر بھی توجہ دینی شروع کردی ،بیمار ماں کی دیکھ بھال سنبھال لی اور دوسروں کی مدد بھی کرتا ہوں،آپ نے مجھے جینا سکھا دیا۔یہ کہہ کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا،میں نے اسے گلے لگالیا۔یہ صرف اس نوجوان کی کہانی نہیں جو راتوں کا جاگتا،دن میں خود سے لڑتا،دوسروں کی موجودگی میں خود کو اکیلا اور بکھرا ہوا محسوس کرتاتھا بلکہ یہ ہر اس نوجوان کی کہانی ہے جو زندگی سے مایوس ہوچکے ہیں۔ہماری نسل کو کامیابی کے خواب تو دکھائے گئے مگر صبر کی دوا نہیں دی گئی،یہ نہیں بتایا گیا محنت کے دروازے نہ کھلیں تو کیا کرنا ہے؟یہ نہیں سکھایا گیا کہ جب زندگی کندھوں پر بوجھ رکھ دے تب کیسے سنبھلناہے؟اللہ کی قربت وہ سہارا ہے جو تم کو جینے کے لئے دوبارہ کھڑا کردیتی ہے۔جب تم سجدے میں گرتے ہو تمھاری روح اٹھنا سیکھتی ہے،دنیا کی ناکامیاں ،مایوسیوں اور الجھنوں سے بھری زندگی کی جنگ اللہ کی قربت اورنبی کریمؐ کے بتائے ہوئے راستوں پرچل کر تودیکھو پھرکوئی تمھیں ہرا نہیں سکے گا۔