اقبال رحمتہ اللہ علیہ * احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ بحضور مولاعلی المرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہ

ڈاکٹر خادم حسین خورشید الازہری۔

امام اہل سنت، کشتہ عشق مصطفی، محافظ ناموس رسالت، مبلغ اسلام ،نائب غوث الوری، اعلی حضرت مجدد دین ملت امام احمد رضا ،محدث بریلی علیہ رحمہ ،بلا شبہ عالم ،فاضل  ،محدث ،فقیہ محقق مفکر شیخ کامل ہونے کے ساتھ ساتھ عظیم شاعر بلکہ اردو شعراء￿  میں احتیاط کی دنیا میں سب سے بلند اور منفرد مقام پر اپ جلوہ گر نظر اتے ہیں، جس قدر وسعت اپ کے کلام میں نظر اتی ہے اپ کے معاصر شعراء￿  اس سیبعض اوقات بے بس دکھائی دیتے ھیں،امام اہل سنت صحیح معنوں میں اہل بیت اطہار ،اصحاب رسول کے احترام و اکرام، محبت و عقیدت کا ایک حسین مرکز ھی ، اپ مولا کائنات، شیر خدا حضرت علی المرتضی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم کے حضور اپنی عقیدت و محبت کا مختلف  مقامات وتحقیقات پر اپ کے نام نامی اسم گرامی ،تخلصات والقابات کی صورت یوں بیان فرماتے ہیں،،مرتضی شیر حق اشع الاشجعین ساقی شیر و شربت پہ لاکھوں سلام،* شیر شمشیر زن شاہ خیبر شکن پر توے دست قدرت پہ لاکھوں سلام، *ماحئی  رفض و تفضیل ونصب و خروج حامی دین و سنت پہ لاکھوں سلام۔ در نجف ہوں گوہر پاک خوشاب ہوں  یعنی تراب رہ گزربو تراب ہوں * یعنی مولائے کائنات کی راہ گزار کی خاک درحقیقت موتیوں سے زیادہ قیمتی ہے اور میں اس راہ گزر کی خاک بن کر موتیوں سے زیادہ قیمتی ہو چکا ہوں۔*مرتضی شیر خدا مرحب کشا خیبر کشا سرورا لشکر کشا مشکل کشا امداد کن۔ اے علی المرتضی شیر خدا مرحب پہلوان کو قتل کرنے والے اور خیبر کے دروازے کو کھولنے والے اے سردار اے لشکر کشی کرنے والے مشکل کشا امداد فرمائیں۔ یا ید اللہ یا قوی یا زور بازوئے نبی من زپاافتادم اے دست خدا امداد کن,اے اللہ کے ہاتھ، قوت والے اے نبی پاک کے بازو کو طاقت بنانے والے میں گر پڑا ہوں اے خدا کے ہاتھ میری مدد فرمائیے۔ اے رخت را غازہ تطہیر و اذھاب نجس اے لبت را فصل القضا امداد کن,اے وہ ہستی کہ اپ کے رخ پاک پر تطہیر والا پورڈر لگا ہوا ہے اور ناپاکی اپ سے دور ہے اور اپ کے ہونٹوں پر قضا کے فیصلوں کی کلف لگی ہوئی ہے میری مدد فرمائیے۔یعنی اپ کی ذات کی عظمت کے جس کے سبب اپ کی ذات روشن اور چمکدار ہے اور اپ کا آیات تطہیر کا مصداق ہونا اور اپ جو بولیں اللہ تعالی اس کام کو کر دیتا ہے۔اے شب ہجرت بجائے مصطفی برخت خواب اے دم شدت فدائے مصطفی امداد کن۔وہ پاک ہستی کہ اپ نے ہجرت کی رات حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بستر پر محوخواب ھوگئے اور اے جنگ کی شدت میں حضور رحمت کونین پر قربان ہونے والے اپ میری مدد فرمائیں۔* اے عدو کفر و نسب و رفض و تفصیل و خروج اے علوئے سنت و دین ھدی امدادکن*۔ اے کفر اور بت پرستی ،رفض و تفضیل اور خوارج کے دشمن اے کریم اقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سنت مطہرہ اور دین و ہدایت کو بلند کرنے والے میری امداد فرمائیں۔شمع بزم و تیغ رزم و کوہ عزم و کان حزم اے کذا وائے فضوں تر از کذا امداد کن۔اپ شمع  بزم محبت ہیں اور میدان جنگ میں تلوار اپ کے عزم و ارادہ کا پہاڑ عقل و دنائی کی کان ہے اپ کے یہ خصائل ھیں ، اللہ ان کو اور بڑھائے اور بڑھائے آپ میری مدد فرمائیںالقابات مولائے کائنات۔۔شمع شبستان ولایت، ال مصطفی کی جڑ، شاخ مصطفی ،المرتضی، محبوب خدا، مطلوب مصطفی، سید الابرار، قاتل الکفار، بالا منزلت ،والا مرتبت، برادر احمد ،خلیفہ امجد، حرزالاسلام ،شیر ضرغام ،طاہر ،اطہر ،اعطراکرم،افتاب مکارم، مہتاب بنی ہاشم ،صاحب رائے ثاقب، صاحب فکر صائب ، اسد حیدر، ضیغم غضنفر ،بازوئے مصطفی ،شیر خدا، صف شکن، شمشیر زن، تیر افگن، ابر سخاوت، بحر کرامت، ہادی کریم، ہادی صراط مستقیم ،مہروئیگل عذار، گل روئیماہ رخسار ،جناب اسمان قباب ،نو شاہ بزم عرفاں، سرکار والا اقتدار ،مولا مشکل کشا ،جناب عرفان مآب ،مولا و مددگار، دافع بلا و مکروہات، قسیم النار ،اسد اللہ الغالب، قران ناطق ،قطب الارشاد ،الوحید، الشہید ،موحد ،موقن و ملھم ،طیب و زکی، طاہر و نقی، نور بار، اللہ کے غالب شیر ،کافر کش، حاجت روا ،مومن پناہ ،اسد ذوالجلال ،وزیر سلطنت زیریں ،وزیر مصطفی ،حیدر قرار، اسد اللہ الغالب ،امام المشارق والمغارب ،حلال المشکلات والنوائب، دفاع المعضلات والمصائب ،اخوالرسول، زوج البتول، الامام، امام الواصلین ،ال رب العالمین، شیر خدا ،اشجع الاشجعین، ساقی شیر و شربت، اصل نسل صفا، وجہ وصل خدا، باب فضل ولایت ،دافع اہل رفض، شیر شمشیر زن ،شاہ خیبر شکن، پر تودست قدرت، امیر لا فتی،  زور بازوئے نبی، طلیق الوجہ، بہیج القلب ،فدا مصطفی،عدو کفر ،علویسنت، شمع بزم، تیغ رزم، کوہ عزم ،کان حزم ،برادر مصطفی، قسیم جناں،قاسم کوثر،۔۔۔۔۔اسی طرح عاشق رسول ،محب اہل بیت ،حکیم الامت مفکر اسلام حضرت علامہ ڈاکٹر محمد اقبال رحمت اللہ علیہ بارگاہ حیدر قرار میں اپنی منظوم عقیدت کا یوں اظہار فرماتے ہیں ،مسلم اول شہ مرداں علی عشق را سرمایہ ایماں علی۔ پہلے مسلمان اور بہادروں کے سردار مولا علی ہیں عشق کے لیے ایمان کا سرمایہ مولا علی ہیں۔ازولائیدود مانش زندہ ام در جہاں مثل گوہر تابندہ ام۔ اپ کے خاندان والا شان کی محبت میں میں زندہ ہوں اسی لئیتو جہاں میں موتی کی طرح تابندہ ہوں ،نرگسم وارفتہ نظارہ ام در خیابانش چوبو آوارہ ام *، سراپا نرگس بن کر اپ کے نظارہ جمال و کمال میں مست ہوں اور اپ کے چمن علم و فکر میں خوشبو کی طرح سرگرداں ہوں، زم زم ار جو شد زخاک من ازو است میاگر ریزد زتاک من ازوست،* اگر میری خاک سے زم زم یقین و خودی کا چشمہ ابل رہا ہے تو یہ  انہی کا فیض ہے اور اگر میری انگوری بیل سے شراب معرفت ٹپک رہی ہے تو یہ مولائے کائنات حیدر کرارھی  کا صدقہ ہے، خاکم و ازمہر او ائینہ ام می توا دیدن نوا در سینہ ام *،اگرچہ میں خاک ہوں مگر ان کی مودت سے ائینہ بن گیا ہوں ایسا شفاف کہ میرے سینے میں اوازمودت ملاحظہ کی جا سکتی ہے،*قوت دین مبین فرمودہ اش کائنات آئیں پذیر ازدودہ اش *,سرکار دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم نے اپ کو دین مبین کی قوت قرار دیا اپ کے فرمودات سے دین کو تقویت نصیب ہوئی کائنات نے اپ کے مقدس خاندان سے آئین  اسلام کی ارائش پائی۔*مرسل حق کردنامش بو تراب حق ید اللہ خواند در ام الکتاب، رسول مکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپ کو بو تراب کے حسین لقب سے سرفراز فرمایا اور رب العزت نے ام الکتاب قران مجید فرقان حمید میں اپ کو ید اللہ کا خطاب بخشا ،ہر کہ دانائے رموز زندگیست  سر اسمائے علی داند کہ چیست *جو بھی زندگی کے رموز سے اگاہ ہے وہ جانتا ہے کہ اسمائے علی کا راز کیا ہے،*شیر حق ایں  خاک را تسخیر کرد ایں گل تاریک را اکسیر کرد *شیر خدا علی المرتضی نے اس بدن کو مسخر کر لیا اور اس سیاہ مٹی کو اکسیر بنا لیا ,*مرتضی کزتیغ او حق روشن است بو تراب از فتح اقلیم تن است, مولائے کائنات علی المرتضی جن کی تلوار سے دنیا میں دین حق روشن ہے اپ  بوتراب ملک بدن کی فتح سے بنے ہیں،مرد کشور گیر از کراری است گوھرش را ابرو خودداری است *,کراری سے ایک دلیر مرد فاتح بنتا ہے اور اس کے جوہر باطن کو ابرو خودداری سے ملتی ھے ہر کہ در افاق گردبو تراب بازگرداندز مغرب 
افتاب*, جو بھی کائنات میں ابو تراب بن جاتا ہے وہ افتاب کو مغرب سے لٹانے کی طاقت پا لیتا ہے* زیر پاش اینجا شکوہ خیبراست دست اوآنجا قسیم خیبراست*, اس دنیا میں خیبر کا شکوہ وجلال اس کے پاؤں تلے ہوتا ہے اور اخرت میں اس کا ہاتھ قاسم کوثر ہوتا ہے* از خود اگاہی ید اللہھی کند ازیداللھی شہنشاہی کند*, وہ خود اگاہی کی قوت سے خدائی ہاتھ بن جاتا ہے اور خدائی ہاتھ کی قوت سے دنیا پر حکومت کرتا ہے ذات او دروازہ شہر علوم زیر فرمانش حجاز و چین و روم, اس کی ذات شھرعلوم کا دروازہ بن جاتی ہے اور حجاز چین اور روم اس کے زیر فرمان ہو جاتے ہیں ،چوں علی درساز بانان شعیر گردن مرحب شکن خیبر بگیر علی المرتضی کی طرح جو کی روٹی پر گزارا کر مرحب کی گردن توڑ اور خیبر فتح کر** ہزار خیبر و صدگونہ اڑدر است  اینجا نہ ہر کہ نان جویں خورحیدری داند ہمارے ارد گرد ہزار خیبر اورسوطرح کے اڑدھے بکھرے ہوئے ہیں ان سے نمٹنے کے لیے حیدری روایات اور قراری جذبات کی ضرورت ہے اور ضروری نہیں کہ جو نان جوی  کھاتا ہو وہی وہ حیدری بھی  جانتا ہو *سوز صدیق و علی ازحق طلب ذرہ عشق نبی از حق طلب, تمہیں بھی چاہیے کہ اللہ تعالی سے صدیق و علی کا سوز دروں مانگو اور دعا کرو کہ عشق نبوی کا ایک ذرہ نصیب ہو جائے بدہ پورا جوان پاک بازے سرورش از شراب خانہ سازے, قوی  بازوئیاو ماند حیدر دل ازدودگیتی بے نیازے*, اس امت کو ایک ایسا پاک باز جوان عطا فرمائیے جس کی فکر و نظر میں شراب خانہ ساز کا سرور ہو جو تہذیب مغربی سے متاثر نہ ہو اس کے بازو حیدر کرار کی طرح مضبوط اور طاقتور ہوں اور اس کا دل دو جہاں سے بے نیاز ہو گلستانے ز خاک من بر انگیز نم چشمم  بخون لا الہ امیز اگر شایاں نیم تیغ علی را نگاھے دہ چوچشمشیر علی تیز,میری خاک سے گلستاں پیدا فرما دیجئے خون لا الہ میں میری آنکھ کی  نمی بھی ملا دیجیے اگر میں تیغ علی کے لائق نہیں ہوں تو مجھے ایسی نگاہ عطا فرمائیے جو تیغ علی کی مانند تیز ہو۔مرتضی مشکل کشا شیرخدا