ڈاکٹر ذکیہ گلفام
وہ چھوٹا بچہ اپنے باپ کی بھاری بوٹس کو دیکھ رہا تھا اور کسی سوچ میں مگن تھا جبکہ اس کی ماں کو یہ خوف گھیرے ہوئے تھا کہ کیا میں اس دراز قد سپاہی کے نام کا سنگار پھرکبھی کر سکوں گی یا نہیں اسی طرح ایک بیساکھی کے سہارے چلنے والی ماں اس سوچ میں متغرق تھی کہ وہ ان کا اکلوتا بیٹا ہے، کیا پھر کبھی وردی پہنے مسکراتا چہرہ لیے اس کے سامنے آسکیگا ،کیا پھر کبھی فخر سے اس کے چھوڑے سینے اور دمکتی پیشانی پر بوسہ دے سکے گی عجیب سی کیفیت کمرے میں موجود نفوس پر طاری تھی البتہ جو احساس سب سے زیادہ نمایاں تھا وہ یہ کہ سب کی خواہشات سے ضرور ملک کی سلامتی ہے اور اس مجاہد اسلام کی ضرورت ہم سے زیادہ وطن کو ہے، کمرے میں نفوس کا سکوت بچے کی پر سوچ آواز سے ٹوٹا۔
بابا۔۔۔۔! میرے پاؤں میں آپ کے بوٹ کب پورے ہوں گے؟
اس جملے کے بعد کمرے میں موجود نفوس کے درمیان خاموشی اور گہری ہوگئی۔