لاہور:وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت اہم اجلاس میں پاکستان کی پہلی صوبائی ایئر لائن "ایئر پنجاب" کے قیام اور لاہور سے راولپنڈی تک پاکستان کی پہلی بلٹ ٹرین چلانے کے منصوبے کی منظوری دے دی گئی۔
تفصیلات کے مطابق اجلاس میں "ایئر پنجاب" پراجیکٹ باضابطہ طور پر پیش کیا گیا جس کے تحت ابتدائی مرحلے میں چار جدید ایئربس طیارے لیز پر حاصل کیے جائیں گے۔ "ایئر پنجاب" ابتدائی طور پر اندرونِ ملک ڈومیسٹک پروازوں کا آغاز کرے گی، جبکہ ایک سال بعد بین الاقوامی پروازیں بھی چلائی جائیں گی۔ وزیراعلیٰ نے فوری طور پر طیارے لیز پر لینے اور ایئر لائن کو ملک کی بہترین ایئر لائن بنانے کے لیے انتظامات مکمل کرنے کی ہدایت جاری کی۔اجلاس میں لاہور سے راولپنڈی بلٹ ٹرین منصوبے کی بھی اصولی منظوری دی گئی۔
بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ بلٹ ٹرین کے ذریعے لاہور سے راولپنڈی کا سفر محض اڑھائی گھنٹے میں مکمل ہو سکے گا۔ منصوبے کی تکمیل کے لیے پاکستان ریلوے کے ساتھ اشتراک پر غور کیا جا رہا ہے۔ سینئر وزیر مریم اورنگزیب کو ریلوے سے باقاعدہ اشتراک کا ٹاسک سونپ دیا گیا ہے جبکہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے آپشن پر بھی غور جاری ہے۔مزید برآں، وزیراعلیٰ نے پنجاب کے مختلف شہروں کے لیے چھ مزید ہائی اسپیڈ ٹرین روٹس کا منصوبہ بھی طلب کر لیا۔ یہ روٹس درج ذیل ہیں:
لاہور سے شاہدرہ اور نارووال
لاہور سے رائیونڈ، قصور، پاکپتن سے لودھراں
قلعہ شیخوپورہ، جڑانوالہ سے شور کوٹ
شور کوٹ سے جھنگ اور جھنگ سے سرگودھا
لالہ موسیٰ سے سرگودھا براستہ ملکوال
فیصل آباد سے چک جھمرہ اور شاہین آباد
اجلاس میں لاہور "ییلو لائن" اور گوجرانوالہ ماس ٹرانزٹ لائن پراجیکٹ کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ ٹھوکر نیاز بیگ سے ہربنس پورہ تک جناح ٹرمینل کے لیے ییلو لائن پراجیکٹ کی فزیبلٹی سٹڈی 30 مئی تک مکمل کی جائے، جبکہ گوجرانوالہ ماس ٹرانزٹ لائن کی سٹڈی 15 جون تک مکمل کرنے کی ڈیڈ لائن دی گئی۔