بارسلونا میں ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے قرونِ وسطیٰ کے ایک نایاب بحری جہاز کا ملبہ دریافت کیا ہے، جس سے اُس دور میں کشتی سازی کے فن پر نئی روشنی ڈالنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
کھدائی کا یہ عمل ایک سابقہ فش مارکیٹ کی جگہ پر جاری ہے، جہاں اب بائیومیڈیسن اور حیاتیاتی تنوع پر مشتمل ایک جدید مرکز تعمیر کیا جا رہا ہے۔اس مقام سے پہلے بھی کئی اہم آثار دریافت ہو چکے ہیں، جن میں ہسپانوی خانہ جنگی کے دوران فضائی حملوں کی پناہ گاہ کے آثار، پرانے بازار کے نشانات اور 18ویں صدی کے تاریخی نمونے شامل ہیں۔تازہ دریافت میں ایک بڑا بحری جہاز ملا ہے، جو غالباً 15ویں یا 16ویں صدی میں طوفان کے دوران ڈوبا تھا، جب بارسلونا کا یہ علاقہ سمندر کے زیرِ اثر تھا۔ جہاز کے ملبے میں 10 میٹر لمبی اور 3 میٹر چوڑی لکڑی کے ڈھانچے کا ایک اہم حصہ ملا ہے، جس میں 30 سے زائد خمیدہ لکڑیاں اور لوہے کے بندھن استعمال کیے گئے ہیں .
جو قرونِ وسطیٰ میں بحیرۂ روم اور یورپ میں رائج کشتی سازی کے انداز کی واضح عکاسی کرتے ہیں۔ماہرین کے مطابق، لکڑی اور بندھنوں کی مزید تحقیق سے اُس دور کی بحری انجینئرنگ کی تکنیکوں کے بارے میں قیمتی معلومات حاصل ہوں گی۔ یہ دریافت اس سے قبل ملنے والے 'بارسیلونیٹا I' جہاز کے بعد ایک اور اہم کامیابی ہے، جسے شہر کے ایک ریلوے اسٹیشن کے قریب دریافت کیا گیا تھا۔