امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، امریکی حکام نے اعلان کیا ہے کہ طیارہ بردار بحری بیڑا یو ایس جیرالڈ فورڈ جلد ہی مشرق وسطیٰ سے واپس بلا لیا جائے گا۔
اس بیڑے کو مرمت اور تکنیکی معائنے کے لیے خطے سے باہر منتقل کیا جائے گا۔ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ یہ بحری بیڑا تقریباً 10 ماہ سے مشرق وسطیٰ میں تعینات تھا، اور اس کی واپسی کے بعد خطے میں امریکی عسکری موجودگی اور فوری ردعمل کی صلاحیت میں کمی آ سکتی ہے۔ یہ اقدام خاص طور پر ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جہاں امریکی فوجی طاقت کو کم کرنے یا تبدیل کرنے کے حوالے سے قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔دوسری جانب اس پیش رفت نے ایک اور اہم امریکی بحری بیڑے، ابراہم لنکن، کے حوالے سے بھی سوالات کو جنم دے دیا ہے۔ ایران کی جانب سے اس پر حملے کا دعویٰ کیا گیا تھا، جسے واشنگٹن نے مسترد کر دیا، مگر اس کے بعد سے اس بحری جہاز کی نقل و حرکت واضح نہیں رہی۔
غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق، کہا جا رہا ہے کہ بحری بیڑا ابراہم لنکن خلیج عمان کے قریب موجود ہو سکتا ہے، مگر اس حوالے سے کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔ اس صورتحال کے پیش نظر، خطے میں امریکی عسکری طاقت اور ردعمل کی صلاحیت کے مستقبل پر سوالات اٹھ رہے ہیں، خاص طور پر ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں۔