وزیراعظم محمد شہباز شریف سے بزنس کونسل فار انٹرنیشنل انڈر اسٹینڈنگ (BCIU) اور امریکا پاکستان بزنس کونسل (USPBC) کے وفود نے ملاقات کی، جس میں پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع، معاشی اصلاحات اور مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، فنانس، مشروبات، مینوفیکچرنگ، ادویات اور آرگینک مصنوعات سمیت مختلف شعبوں سے وابستہ کاروباری شخصیات نے شرکت کی۔وزیراعظم نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان کی کاروبار اور سرمایہ کاری دوست پالیسیوں اور مختلف شعبوں کی ترقی کے لیے حکومتی اقدامات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان امریکا بزنس کونسل اور بزنس کونسل فار انٹرنیشنل انڈر اسٹینڈنگ اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان بہترین پل کا کردار ادا کر رہی ہیں۔شہباز شریف نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں نمایاں بہتری آئی ہے، جبکہ ملکی معیشت مستحکم ہوچکی ہے اور ترقی کی جانب گامزن ہے۔ ان کے مطابق خطے میں طویل مدتی امن کاروبار اور سرمایہ کاری کے لیے انتہائی اہم ہے۔وزیراعظم نے بتایا کہ پاکستان میں بڑے پیمانے پر ساختی اور پالیسی سطح کی اصلاحات جاری ہیں، جبکہ معیشت کو ڈیجیٹائز کرنے، ٹیکنالوجی کے فروغ اور ای گورننس کے لیے بھی تیزی سے کام کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے زرعی شعبے میں سرمایہ کاری کی وسیع استعداد موجود ہے۔ مصنوعی ذہانت، جدید ٹیکنالوجی، مشینری اور جدید زرعی آلات کے استعمال سے فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ، اخراجات میں کمی اور کارکردگی بہتر بنائی جاسکتی ہے۔شہباز شریف نے کان کنی و معدنیات، آئی ٹی، مصنوعی ذہانت، بندرگاہوں اور جہاز رانی کو بھی سرمایہ کاری کے اہم شعبے قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان قدرتی معدنی وسائل سے مالا مال ہے جبکہ نوجوان ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں، جنہیں پیشہ ورانہ تربیت اور جدید مہارتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کا بنیادی کردار نجی شعبے کے لیے کاروبار اور سرمایہ کاری میں سہولت فراہم کرنا اور سازگار ماحول پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے نجکاری کو بھی سرمایہ کاری کے اہم شعبوں میں شامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری ہوچکی ہے جبکہ پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی بھی نجکاری کی جائے گی۔
ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، معاونین خصوصی طارق فاطمی اور بلال بن ثاقب، اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار اور امریکا میں پاکستانی سفیر رضوان احمد شیخ بھی شریک تھے۔