نیویارک میں 24 ستمبر 2026 کو ابراہام معاہدے میں شامل ممالک کے درمیان 7 اکتوبر 2023 کے بعد پہلی باضابطہ مشترکہ میٹنگ ہوئی۔
اجلاس اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر منعقد کیا گیا۔اجلاس میں امریکا، اسرائیل، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مراکش کے نمائندوں نے شرکت کی، جبکہ قازقستان نے بھی پہلی مرتبہ اجلاس میں شرکت کی۔ قازقستان ابراہام معاہدے میں شامل ہونے میں دلچسپی کا اظہار کرچکا ہے۔اجلاس کے دوران ابراہام معاہدے کے تحت قائم موجودہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ شرکا نے تجارت، ٹیکنالوجی، ٹرانسپورٹ اور دیگر عملی شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات کا جائزہ لیا۔ملاقات میں معاہدے کو مزید ممالک تک وسعت دینے کے لیے آئندہ اقدامات پر بھی گفتگو کی گئی۔
یہ پیش رفت اس لحاظ سے اہم قرار دی جارہی ہے کہ 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملے اور اس کے بعد غزہ میں شروع ہونے والی جنگ کے باعث ابراہام معاہدے کی مزید توسیع کی کوششیں سست پڑ گئی تھیں۔ تقریباً تین سال بعد ان ممالک کے درمیان اجتماعی سطح پر باضابطہ رابطہ سامنے آیا ہے۔ابراہام معاہدے کا آغاز 2020 میں ہوا تھا، جس کے تحت متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے، جبکہ مراکش بھی بعد ازاں اس عمل میں شامل ہوگیا۔