وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں مزید اسلامی ممالک کی شمولیت کا امکان موجود ہے، تاہم کسی بھی نئے ملک کو شامل کرنے کا فیصلہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی مشترکہ صوابدید سے ہوگا۔
انہوں نے واضح کیا کہ معاہدہ فی الحال انہی تین ممالک کے درمیان ہے۔نیویارک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کی ممکنہ شمولیت سے متعلق سوال پر خواجہ آصف نے کہا کہ ایران خطے کا ایک انتہائی اہم ملک ہے اور دفاعی نوعیت کے اس معاہدے میں کسی بھی ملک کے خلاف کوئی ارادہ شامل نہیں۔وزیر دفاع کے مطابق معاہدے میں شامل ہونے والے کسی بھی ملک کا مقصد خطے میں امن کے قیام اور استحکام میں کردار ادا کرنا ہوگا۔خواجہ آصف نے بتایا کہ معاہدے کے تحت ایک سیکریٹریٹ قائم کیا جانا ہے جو ممکنہ طور پر اکتوبر کے اوائل میں فعال ہوجائے گا، جبکہ معاہدے کے انتظامی اور بیوروکریٹک ڈھانچے کو مکمل طور پر فعال ہونے میں دو سے چار ماہ لگ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ متعدد اسلامی ممالک مکہ معاہدے کا حصہ بننے میں دلچسپی رکھتے ہیں، تاہم کسی بھی ملک کی رکنیت کے بارے میں فیصلہ موجودہ تینوں رکن ممالک باہمی مشاورت سے کریں گے۔امریکا اور ایران کے درمیان جاری رابطوں کے حوالے سے وزیر دفاع نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ملاقاتیں ہونا اچھی بات ہے، کیونکہ جب تعلقات خراب ہوں تو ملاقاتیں نہیں ہوتیں۔ان کا کہنا تھا کہ رابطے اور ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہنے سے بہتری اور کسی ممکنہ حل کی امید برقرار رہتی ہے، جبکہ رابطے منقطع ہونے کی صورت میں کسی حل کی امید کم ہوجاتی ہے۔