صدرشی جن پنگ امریکہ پہنچ گئے‘شانداراستقبال ٹرمپ کیساتھ کام کرنے کیلئے تیار ہوں: چینی صدر

صدر  ٹرمپ اور خاتون اول میلانیا نے چینی صدر اور ان کی اہلیہ کا ایئرپورٹ  پر ریڈ کارپٹ پر استقبال کیا‘، توپوں کی سلامی  دی گئی
چین اور امریکہ تعاون سے فائدہ اْٹھائیں گے،محاذ آرائی دونوں کیلئے نقصان دہ ہو گی، مذاکرات سے ایک دوسرے کو بہتر سمجھ سکتے ہیں :چینی صدر
واشنگٹن(آئی این پی‘مانیٹرنگ ڈیسک)چینی صدرشی جن پنگ تین روزہ دورے پرامریکا پہنچ گئے، امریکی صدر ٹرمپ اور خاتون اول نے چینی صدر اور اہلیہ کا استقبال کیا۔ چینی صدر شی جن پنگ کے روزہ دورے کے آغاز پر جوائنٹ بیس اینڈریوز میں 100 فٹ طویل ریڈ کارپٹ بچھایا گیا، توپوں کی سلامی دی گئی اور امریکی فضائیہ کے دو B-1 بمبار طیاروں نے فضائی مظاہرہ کیا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور خاتون اول میلانیا ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ اور ان کی اہلیہ پینگ لی یوان کا ایئرپورٹ کے رن وے پر ریڈ کارپٹ پر استقبال کیا، دونوں رہنمائوں اور ان کی بیگمات نے مصافحہ کیا اور مختصر گفتگو بھی کی۔شی جن پنگ کے استقبال کے لئے امریکی اور چینی پرچموں کے ساتھ تین رسمی دستے تعینات کئے گئے تھے جبکہ امریکی فضائیہ کے بینڈ نے دونوں ممالک کے قومی ترانے پیش کئے، امریکی فوج کی تمام سروسز کے پلاٹونز بھی استقبالیہ تقریب کا حصہ تھے۔دریں اثناء چینی صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خوبصورت ملک امریکا کا سرکاری دورہ کر کے بہت خوشی ہو رہی ہے،ایک ارب 40 کروڑ چینی عوام کی جانب سے امریکی عوام کا خیر مقدم کرتا ہوں اور  امریکی عوام کو امریکا کی آزادی کی250ویں سالگرہ پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔چینی صدر کا کہناتھا کہ اس وقت دنیا میں ہمیں بڑی تبدیلیوں کا سامنا ہے،چین اور امریکا کو انسانیت کی ترقی اور پیشرفت کیلئے کردار اداکرنا ہو گا،چین اور امریکا کو باہمی رابطے مزید مضبوط کرنے چاہئیں، چین امریکا تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کیلئے ٹرمپ کیساتھ کام کرنے کو تیار ہوں،امریکا اور چین کے حالات مختلف ہیں لیکن مذاکرات سے ایک دوسرے کو بہتر سمجھ سکتے ہیں۔ اختلافات کو ایک طرف رکھتے ہوئے باہمی اعتماد قائم کیا جا سکتا ہے، صدر ٹرمپ اور میرا ذاتی تعلق قائم ہے،ہم رابطے میں رہتے ہیں، خارجہ امور،معیشت،مالی تعاون،عوامی روابط میں رابطیمضبوط کئے جائیں، چین اور امریکا کے قانون ساز اداروں کے درمیان تبادلوں میں بھی اضافہ ہونا چاہیے، مصنوعی ذہانت کی ترقی ہمیشہ انسانی کنٹرول میں ہونی چاہیے، مصنوعی ذہانت کا استعمال عوام کی فلاح وبہبود کیلئیہونا چاہیے۔