صوبے پی ایس پی رولز تبدیل نہیں کرسکتے خیبرپختونخوا حکومت کا پولیس ایکٹ سپریم کورٹ میں چیلنج کرینگے طلال چودھری

صوبے مادر پدر آزاد نہیں ہیں، سندھ اپنی نیوی، پنجاب اپنی ریلوے بنانا چاہے تو وہ نہیں بنا سکتا، پاکستان پولیس سروس رولز کو اوور رائٹ نہیں کیا جاسکتا
 پولیس کو گھر کی لونڈی نہیں بناسکتے،  پولیس کا کمانڈ سٹرکچر تباہ کردیا، پارلیمنٹ میں جائیں گے اور قانون سازی کریں گے:وزیرمملکت برائے داخلہ کی پریس کانفرنس
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے کہا ہے خیبرپختونخوا  میں جو پولیس قانون لگایا گیا ہے اس کے ملک پر کیا اثرات ہوں گے؟ صوبے مادر پدر آزاد نہیں ہیں، سندھ اپنی نیوی، پنجاب اپنی ریلوے بنانا چاہے تو وہ نہیں بنا سکتا، صوبے پی ایس پی رولز کو تبدیل نہیں کرسکتے، یہ رولز سیٹلڈ قوانین ہیں۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا  پاکستان پولیس سروس رولز کو اوور رائٹ نہیں کیا جاسکتا، ایسی پولیس جو دہشتگردی سے لڑرہی ہے جو نہتی ہونے کے باوجود اپنی خدمات دے رہی ہے، آپ کے پی پولیس کے کمانڈ سٹرکچر کو تباہ نہیں کرسکتے، ایسی قانون سازی جو آئین و قانون سے متصادم ہے، آپ نے پولیس کا کمانڈ سٹرکچر ہی تباہ کردیا ہے۔ آپ نے ڈی ایس پی سے اعلی پولیس افسروں کو لگانے کا اختیار اپنی جیب میں رکھنے کی کوشش کی، اس طرح پولیس یہ نہیں دیکھے گی سیاسی جماعت کیا چاہتی ہے؟ کیا اس طرح پولیس کا ڈسپلن متاثر نہیں ہوگا؟ پولیس افسران کی پوسٹنگ کیلئے مشاورت کے اختیار پہلے ہی چاروں وزرائے اعلی کے پاس ہیں۔انہوں نے کہا  وفاقی قوانین ہی صوبائی قوانین کے اوپر ہوں گے،  ایسی صورتحال بنی تو ہم پارلیمنٹ میں جائیں گے اور قانون سازی کریں گے۔زیر مملکت داخلہ طلال چوہدرری نے کہا کہ ایکٹ ابھی کابینہ سے منظور ہوا ہے، بہتر ہے صوبائی حکومت ہوش کے ناخن لے، وفاق کے پاس ترمیم شدہ پولیس ایکٹ پر بہت آپشنز ہیں، یہ پولیس ایکٹ سپریم کورٹ میں چیلنج ہوگا۔