وہ وقت گزر گیا جب ججوں نے ایک دوسرے کیخلاف پوزیشن لی ہوئی تھی سپریم کورٹ ٹائٹینک ہے‘ تبدیل نہیں کرسکتے چیف جسٹس

سپریم کورٹ کا ہرجج آزاد ہے‘ ہرجج کیس کو اپنے انداز سے بھیجتا ہے‘ ججوں کو بریکٹ نہیں کیا جانا چاہیے‘ججوں پر تنقید ہونی چاہیے لیکن تعمیری تنقید کی جائے
گوادر اور کوئٹہ کے دورے کے دوران لاپتہ افراد کے کیسوںنے ہلا کر رکھ دیا،سپریم کورٹ میں روزانہ پرانے دو تین کیسوں کو سپیشل بینچوںمیں سنا جائے گا:وفد سے گفتگو
اسلام آباد (آئی این پی)چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے سپریم کورٹ ٹائٹینک ہے آپ اس کو تبدیل نہیں کرسکتے،ججز پر تنقید ہونی چاہیے لیکن تعمیری تنقید ہو،مستحق سائلین کو ڈسٹرکٹ جوڈیشری میں مفت وکیل کی سہولت دیں گے۔  چیف جسٹس یحیی آفریدی سے سپریم کورٹ پریس ایسوسی ایشن کے ممبران نے ملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا  سپریم کورٹ کا ہرجج آزاد ہے۔ ہرجج کیس کو اپنے انداز سے بھیجتا ہے۔ ججز کو بریکٹ نہیں کیا جانا چاہیے۔چیف جسٹس یحیی آفریدی نے کہا کہ سپریم کورٹ ایک ٹائٹینک ہے آپ اس کو تبدیل نہیں کرسکتے۔ ججز پر تنقید ہونی چاہیے لیکن تعمیری تنقید ہو۔ سپریم کورٹ میں ریفارمز کے حوالے سے بہت سے اقدامات اٹھائے جا چکے ہیں۔ ہائی کورٹ کی اتھارٹی کا بہت احترام ہے۔ ڈسٹرکٹ جیوڈیشری ہائی کورٹ کے ماتحت ہے۔ براہ راست ہائی کورٹ کی اتھارٹی یا ماتحت عدالت میں مداخلت نہیں ہوگی۔ سپریم کورٹ کی سمت کو تبدیل کرکے انصاف کی فراہمی بہتر کی جا سکتی ہے۔ چیف جسٹس کا فیصلہ سرعت کے ساتھ ہوا میں نے کچھ سوچا ہوا نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ میرا وژن یہ ہے کہ سپریم کورٹ میں کیس فائل ہو تو سائل کا ای میل ایڈریس اور واٹس ایپ نمبر لیا جائے۔ سائل کا واٹس ایپ اور ای میل لینے سے اس کو کیس کی فائلنگ سے لے کر فیصلہ تک تمام آرڈرز ملتے رہیں گے۔ ارجنٹ درخواستوں کی سماعت کا میکنزم بھی بنا رہے ہیں۔ ہمارے ججز نے 8 ہزار کیسز مختصر وقت میں نمٹائے ہیں۔ کیس مینجمنٹ بہتر کرنے سے انضاف کی فراہمی میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔چیف جسٹس یحیی آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ انتخابی عذرداریوں کو سننے کے لیے اسپیشل بینچز بنائے جا چکے ہیں۔ فوجداری اور ٹیکس کے مقدمات لیے بھی اسپیشل بینچز کام کریں گے۔ گوادر اور کوئٹہ کے دورے پر لاپتہ افراد کے کیسز نے ہلا کر رکھ دیا۔ لاپتہ افراد کے کیسز کو ٹیک اپ کیا جائے گا۔ بلوچی اور سندھی کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔سندھی اور بلوچی ججز کی اکنالیجنمٹ ہونی چاہیے۔ مستحق سائلین کو ڈسٹرکٹ جوڈیشری میں مفت وکیل کی سہولت دیں گے۔جیلوں کے دوروں میں قیدیوں نے سال ہسال کیسز کے فیصلے نا ہونے کی شکایت کی۔ قیدیوں کی شکایت پر بہت شرمندہ ہوا۔چیف جسٹس یحیی آفریدی نے کہا کہ سپریم کورٹ میں روزانہ پرانے دو تین کیسز کو اسپیشل بینچز میں سنا جائے گا۔