ایرانی صدر کا موقف: پابندیاں لگیں تو مذاکرات بے معنی ہیں

ایرانی صدر کا موقف: پابندیاں لگیں تو مذاکرات بے معنی ہیں

نیویارک: ایرانی صدر نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے سالانہ اجلاس کے موقع پر واضح موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران پر پابندیاں لگانی ہیں تو مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں۔

غیرملکی میڈیا کے مطابق ایرانی صدر نے سوئٹزرلینڈ کی ہم منصب کیرین کیلرسٹر سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران ہمیشہ بامقصد مذاکرات کا حامی رہا ہے اور ایٹمی معاملے پر مذاکرات کے عمل کا خیرمقدم کرتا ہے۔صدر نے مزید کہا کہ ایران سپریم لیڈر آیت اللّٰہ خامنہ ای کے جاری کردہ فتویٰ کے مطابق ایٹمی ہتھیار نہیں بنائے گا اور یہ عالمی قوانین اور منظور شدہ فریم ورک کے تحت کام کرنے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ ایران ہمیشہ اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ مذاکرات کا مقصد باہمی اعتماد پیدا کرنا اور خطے میں امن و استحکام قائم رکھنا ہونا چاہیے، نہ کہ صرف پابندیوں کے ذریعے دباؤ ڈالنا۔یہ موقف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب عالمی برادری ایران کے ایٹمی پروگرام پر مذاکرات کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اور ایران کے خلاف اقتصادی پابندیوں پر بھی بات چیت ہو رہی ہے۔