امریکی صدر روسی معاملات کے حل میں چین کی مدد کے خواہشمند

امریکی صدر روسی معاملات کے حل میں چین کی مدد کے خواہشمند

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی حالیہ گفتگو میں روس کے ساتھ معاملات کے حل میں چین کی مدد کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ چین روس کے ساتھ معاملات کے حل میں امریکہ کی مدد کرے، تاکہ عالمی سطح پر کشیدگی کم ہو سکے۔ٹرمپ نے اپنے دورہ ایشیا کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان سے ملاقات کا امکان مکمل طور پر 100 فیصد ہے، کیونکہ ان کا کم جونگ ان کے ساتھ اچھا تعلق ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شمالی کوریا کے حوالے سے ان کے تعلقات مثبت ہیں اور وہ جلد ہی اس مسئلے کے حل کے لیے اقدامات کریں گے۔اس کے علاوہ، صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اگر صورتحال بہتر ہوتی ہے تو امریکہ برازیل پر لگائے گئے ٹیرف کو کم کرنے پر غور کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تجارتی معاملات میں بہتری آنے کے بعد یہ ممکن ہے کہ تجارتی محصولات میں کمی کی جائے۔

انہوں نے کینیڈین وزیر اعظم مارک کارنی سے ملاقات کے امکانات کو بھی مسترد کیا، اور کہا کہ اس حوالے سے کوئی ملاقات طے نہیں ہے۔ علاوہ ازیں، انہوں نے بتایا کہ ملائیشیا میں اتوار کو تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ متوقع ہے۔خبر ایجنسی کے مطابق، امریکی صدر گزشتہ روز ملائیشیا، جاپان اور جنوبی کوریا کے پانچ روزہ دورے پر روانہ ہوئے ہیں، جو ان کا صدر سنبھالنے کے بعد ایشیا کا پہلا دورہ ہے۔ اس دوران، ان کی جنوبی کوریا میں چینی ہم منصب سے ملاقات طے ہے۔مزید برآں، صدر ٹرمپ ملائیشیا میں آسیان سمٹ میں شرکت کریں گے، اور خبر ہے کہ جاپانی وزیر اعظم کی جانب سے امریکہ میں 550 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے منصوبوں کے اعلان کا بھی امکان ہے۔