کسان بچاؤ پاکستان بچاؤ

 چوہدری فرحان شوکت ہنجرا 
وفاقی حکومت نے گندم کی امدادی قیمت 3500 روپے من مقرر کر دی ہے جبکہ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے گندم کی امدادی قیمت 45 سو روپے من، آٹے پر سبسڈی، کھاد، بیج اور زرعی ادویات کی قیمتوں میں 50 فیصد کمی، سیلاب متاثرہ کسانوں کو فی ایکڑ 40 ہزار امداد اور زرعی قرضوں کے موخر کرنے کے مطالبات کیے ہیں دوسری جانب جماعت اسلامی نے کسانوں کے حق میں 26,27,28  اکتوبر کو کسان بچاؤ پاکستان بچاؤ روڑ کارواں نکالنے کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں 26اکتوبر کو لاہور پریس کلب سے کسان بچاؤ پاکستان بچاؤ روڈ کارواں کا آغاز ہو گا روڈ کارواں کا پہلا استقبال مانگا منڈی پر ہوگا اور بھائی پھیرو الہ آباد میں جلسے اور حجرہ چوک اوکاڑہ میں جلسہ عام ہوگا جس سے امیر جماعت اسلامی وسطی پنجاب محمد جاوید قصوری اور کسان بورڈ پاکستان کے صدر سردار ظفر حسین خطاب کریں گے 27 اکتوبر کو کسان بچاؤ پاکستان بچاؤ روڈ کارواں کے دوسرے روز کالا شاہ کاکو انٹر چینج پر استقبال ہوگا اس کے بعد مریدکے واہنڈو سمبڑیال وزیر آباد پر جلسے اور نوشہرہ ورکاں میں کسان  بچاؤ پاکستان بچاؤ روڈ کارواں سے امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کسانوں سے خطاب کریں گے روڈ کارواں کے تیسرے آخری روز کا ننکانہ انٹر چینج پر استقبال ہوگا،پنواں،جڑانوالہ،سمندری پر جلسے ہونگے اور گوجرہ ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن جلسہ عام سے خطاب کریں گے۔ کسان بچاؤ پاکستان بچاؤ روڈ کارواں کو کامیاب بنانے کیلئے امیر جماعت اسلامی وسطی پنجاب محمد جاوید قصوری۔جنرل سیکرٹری ڈاکٹر بابر رشید،نصراللہ گورائیہ،رانا تحفہ دستگیر اور اسی طرح کسان بورڈ پاکستان کے صدر سردار ظفر حسین سیکرٹری جنرل ڈاکٹر عبد الجبار گاؤں گاؤں قصبوں قصبوں جاکر کسانوں کو اس کسان بچاؤ پاکستان بچاؤ روڈ کارواں میں شرکت کرنے کیلئے دن رات جہدوجہد میں مصروف عمل ہیں 
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن  نے ملک بھر کے کسانوں نے نام اپنے پیغام میں کہا ہے کہ وہ اپنے حق کے لیے متحد ہو جائیں حافظ نعیم الرحمن نے اعلان کیا کہ ’’کسان بچاؤ پاکستان بچاؤ‘‘ نعرہ کے تحت پورے پنجاب میں نکالے جانے والے روڑ کارواں میں کسانوں کی تمام نمائندہ تنظیمیں شرکت کریں گی۔ تمام کسانوں کو جماعت اسلامی کے نومبر میں مینار پاکستان پر ہونے والے اجتماع عام میں شرکت کی دعوت دیتا ہوں۔ 
حافظ نعیم الرحمن نے حکمرانوں پر واضح کیا ہے کہ کسانوں کے مطالبات کو تسلیم نہ کیا گیا تو احتجاج کا دائرہ کار پورے ملک میں بڑھا دیا جائے گا، کسان گندم کی کاشت نہیں کریں گے۔ جماعت اسلامی آئی ایم ایف اور اس کے غلاموں کی عوام دشمن پالیسیوں کو مسترد کرتی ہے۔ جماعت اسلامی کے علاوہ ملک کی کوئی سیاسی پارٹی کسانوں، پسے ہوئے طبقات کی نمائندگی نہیں کرتی۔ شوگر، آٹا اور گندم مافیا حکمران سیاسی پارٹیوں کا حصہ ہیں، پی ڈی ایم کے دور میں ایک ارب ڈالر سے گندم درآمد سکینڈل کی آج تک تحقیقات نہیں ہوئیں۔  زراعت ترقی کررہی تھی،وفاقی و صوبائی حکومتوں اور بالخصوص پنجاب حکومت کی گزشتہ ایک برس سے جاری پالیسیوں کی وجہ سے چھوٹا کسان پریشان اور زراعت تباہ ہورہی ہے، زراعت کی شرح نمو چھ فیصد سے  اعشاریہ پانچ تک پہنچ گئی ہے۔ زراعت قومی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، یہ ملک کی ساٹھ فیصد دیہی آبادی کے روزگار کا ذریعہ ہے، حکمرانوں کی زراعت اور کسان دشمن پالیسیاں جاری رہیں تو آئندہ برس غذائی بحران پیدا ہوجائے گا۔ حکومتیں جاگیرداروں کو نواز رہی ہیں جب کہ چھوٹے کسانوں کو برباد کیا جارہا ہے۔ ڈی اے پی کھاد کی قیمت بھارت کے مقابلہ میں کئی گنا زیادہ ہے، بیج اور زرعی ادویات مہنگی اور جعلی ہیں
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے کسانوں اور سیلاب متاثرہ عوام کو سہولت دینے کی بجائے سندھ سے لڑائی کا آغاز کردیا ہے، پیپلز پارٹی اور ن لیگ عوام کو بے وقوف نہ بنائیں، سندھ اور پنجاب کی حکومتیں فارم سنتالیس کی پیداوار ہیں، عوام‘‘ بہن بھائی’’کی نورا کشتی کو خوب سمجھتے ہیں۔ گندم کی بین الصوبائی نقل وحرکت پر پابندی ہٹائی جائے، ، میڈم چیف منسٹر پنجاب کارڈ کھیلنے کی کوشش ترک کردیں، موجودہ دور میں عوام کو بے وقوف نہیں بنایا جاسکتا۔ 
کسانوں اور کسان تنظیموں نے وفاقی حکومت کی جانب سے گندم کی سپورٹ پرائس 3500 روپے من کو مسترد کر دیا ہے کسان بورڈ پاکستان کے صدر سردار ظفر حسین نے کہا ہے کہ گندم کی امدادی قیمت 4500روپے سے کم وارے ہی نہیں اگر حکومت بضد رہی تو ملک کو گندم کے بہت بڑے بحران کا سامنا کرنا پڑے گا کسان دو سال سے گندم کی قیمت کم ملنے پر مفلوک الحال ہو چکے ہیں