رفیع احمد
خواتین محض ایک کٹھ پتلی نہی ہے بلکہ حقیقت میں وہ ماں کے روپ میں چٹان،جنت حاصل کرنے کا ذریعہ، بیٹی کے روپ میں رحمت اور بیوی کے روپ میں مدد گار اور بہترین مشیر کا درجہ رکھتی ہے۔نبی کریم صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا"تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنی خواتین سے حسن سلوک کرے" جتنی اچھی ہماری خواتین کی تعلیم و تربیت اور احترام ہوگا اتنا ہی ہمارا معاشرہ اچھا ہوگا۔فرانس کے مشہور جرنل نپولین بوناپارٹ نے کہا تھا کہ" تم مجھے اچھی ماں دو، میں تمھیں ایک عظیم قوم دوں گا"۔ ہمارے دشمن نے ہمیں کمزور کرنے کا کوئی حربہ نہیں چھوڑا ہے،اس نے ہماری خواتین بلخصوص ہماری طالبات کو منشیات کی لت میں مبتلا کرنے میں ہر ہر منصوبے کو اپنایا یعنی اس نے اساسیات پر کاری ضرب لگائی۔ دشمن نے ہماری غربت، تعلیم میں کمی، بیروزگاری، گھریلو پریشانی اور معاشرتی مسائل کو جانتے ہوئے ہماری طالبات و خواتین کو نشہ میں لگا دیا ہے۔اینٹی نارکوٹکس فورس نے جب بھی منشیات کی بڑی کھیپ پکڑی تو گرفتار منشیات فروشوں نیاعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ "منشیات کو ہم تعلیمی اداروں میں بھی پہنچاتے ہیں"۔منشیات کی موثر روک تھام نہ ہونے کی وجہ سے ہماری 10،لاکھ سے زائد عورتیں منشیات کا استعمال کر رہی ہیں ان میں ایک بہت بڑی تعداد ہماری طالبات کی بھی شامل ہے۔ جو طالبات ہوسٹل میں رہائش پذیر ہیں یا ڈانس پارٹیوں میں جاتی ہیں ان طالبات کو بآسانی منشیات یعنی الیکٹرانک سگریٹ( vape)، چرس، نشہ آور گولیاں،کرسٹل آیس وغیرہ مل جاتی ہیں۔اگر ہم سروے کریں تو شوبزکی شاید ہی کوئی ماڈل و اداکارہ اس سے محفوظ ہو۔ دفاتر میں کام کرنے والی زیادہ تر خواتین ذہنی دباؤ کے شکار کی وجہ سے سکون آور گولیاں اور انجکشن کی عادی ہوتی جارہی ہیں۔ غریب و متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والی خواتین اپنے معاشی مسائل کی وجہ سے کرسٹل آیس اور ہیروئن کا نشہ کر رہی ہیں جبکہ زیادہ تر امرا خواتین اپنے اسٹیٹس کے چکر میں ویڈ (weed)،کوکین اور شراب نوشی میں مگن ہیں۔بد قسمتی تو یہ بھی ہے کہ ان خواتین کی بڑی تعداد منشیات کی سپلائی میں بھی ملوث ہورہی ہیں۔ نشہ کی وجہ سے ان میں غصہ، چڑچڑاپن، نشہ سے سمجھانے والے کو اپنا دشمن سمجھنا اور اس کو قتل کر نے سے بھی دریخ نہ کرنا اور ان نشی عورتوں میں خودکشی کارجحان بڑھ رہا ہے۔
منشیات استعمال کرنے والی عورتیں جہاں اپنی جان کی دشمن ہوتی ہیں وہی پر یہ آنے والی نسل کی بھی دشمن ہوتی ہیں،ان میں ایڈز( HIV) اور ٹی بی جیسی مہلک بیماری کے علاؤہ ان کا ماہواری نظام بھی خراب ہو جاتا ہے۔ نشی عورتوں کے یہاں بچے کی پیدائش قبل از وقت،وزن میں کم،ذہنی و جسمانی لحاظ سے لاغر پیدا ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ہمارے والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی بیٹی کا رشتہ نشی مرد سے نہ کرے۔گھر میں پر سکون ماحول رکھیں، والدین اپنی آمدنی کو جائز طریقے سے حاصل کریں،اپنی بیٹی کے دوستوں کے بارے میں مکمل معلومات رکھیں، موبائل فون کا بے جا استعمال نہ کرنے دیں۔اسلامی تعلیمات سے روشناس کرائیں۔ کالج پرنسپل کو مجبور کریں کہ وہ طالبات کی سو فیصد کلاسز لگائیں ،ان کے لیے بھرپور ہم نصابی سرگرمیوں منعقد ہو۔ انسداد منشیات کے پروگرام کا انعقاد کریں۔ طالبات کا ڈرگ رینڈم ٹیسٹ ہو، طالبات میں خود اعتمادی پیدا کی جاے۔ حکومت کی منشیات کی روک تھام میں بڑی ذمہ داری ہے وہ منشیات کی سپلائی کو روکے، معاشرے سے منشیات کی طلب کو ختم کرنے کے لیے الیکٹرانک سگریٹ کی دکانیں سیل کرے، شیشہ کیفے، ہوٹل کے ڈھابے اور ڈانس پارٹیوں کا قلع قمع کرے، وہ میڈیکل اسٹورز جو ڈاکٹری نسخے کے بغیر نشہ آور گولیاں و ادویات فراہم کر رہے ہیں ان کو سخت سزائیں دی جائیں۔حکومت خواتین کے لیے مشاورتی و کھیل کے مراکز قائم کرے، ان کے گھر کے مردوں کو روزگار فراہم کرے۔اگر آج ہم نے بڑھتی ہوئی منشیات کے خلاف اپنا کردار ادا نہیں کیا تو آیندہ چند سالوں میں ہر گھر میں نشی عورت موجود ہوگی، آنے والی نسل لاغر، معذور، قتل و غارت کرنے اور دشمن سے ڈرنے والی قوم پیدا ہوگی۔۔۔۔